افغان صدر نے طالبان کو افغانستان میں دفتر کھولنے کی پیشکش کردی

0
14

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان جہاں چاہیں دارلحکومت کابل، صوبہ قندھار یا ننگرہار میں اپنا سیاسی دفتر کھول سکتے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل کا دورہ کیا۔وہاں موجود سیکیورٹی فورسز کو داعش کے خلاف کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر افغان نیشنل آرمی سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر کا کہنا تھا کہ طالبان جہاں چاہیں دارلحکومت کابل، صوبہ قندھار یا ننگرہار میں اپنا سیاسی دفتر کھول سکتے ہیں جس کے لیئے افغان حکومت ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی اور مکمل تحفظ بھی فراہم کرے گی۔ہم افغانستان میں باوقار اور دیر پا امن لانا چاہتے ہیں۔

اشرف غنی نے طالبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کے لیئے مکہ جانا بہتر ہے یا ماسکو؟ مکہ میں منعقد ہونے والی امن مذاکرات کانفرنس میں طالبان نے شرکت نہیں کی لیکن ماسکو امن مذاکرات کانفرنس میں شرکت کرلی۔

دوسری جانب طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کی افغانستان میں دفتر کھولنے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری قطر کے دارلحکومت دوحہ میں ان کے دفتر کو تسلیم کرے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء اور امن معائدے پر اتفاق ہوگیا ہے۔جس کے بعد امن مذاکرات میں شریک نہ کرنے پر افغان حکومت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان امریکا کے بجائے افغان حکومت سے مذاکرات کرے۔

تاہم طالبان افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں اور اسے تسلیم نہیں کرتے۔جبکہ افغان حکومت کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here