جنرل ہارون اسلام

0
0

تاریخ پاکستان نے ایک ایسا وقت بھی دیکھا کہ سوات کی وادیوں پر دہشتگردوں کا قبضہ تھا اور محب وطن پاکستانیوں کو پکڑ پکڑ کر ذبع کیا جا رہا تھا۔

ایسے وقت میں اگر عام فوج ان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کر بھی دیتی تو دہشتگردوں کی شدید مزاحمت اور فوجی جوانوں کے جانی نقصان کا خطرہ تھا۔

ّسوات کے اس انتہائ پرخطر آپریشن کے لیے ایس ایس جی کے جوانوں کا انتخاب کیا گیا جن کے ذمے پیراشوٹ کے ذریعے دہشتگردوں کے زیرقبضہ علاقے میں اترنا تھا۔
یہ کام تقریبا” خدکشی کے برابر تھا لیکن وطن کو بچانے کے لیے یہ آپریشن اشد ضروری ہو گیا تھا۔

اس آپریشن کی ذمہ داری اس وقت کے ایس ایس جی کمانڈر میجر جنرل ہارون اسلام کے کندھے پر تھی جنہوں نے یہ کام اس قدر بہادری اور دلیری سے کیا کہ آنے والے فوجی افسران بھی انکے نقش قدم پر چلتے فخر محسوس کریں گے۔

وہ رات جب وادی سوات میں گھپ اندھیرا تھا، اس وقت ایس ایس جی کے جوان علاقے میں پراشوٹس کے ذریعے اترنا شروع ہوئے۔
لِیکن قربان جائیں اس عظیم افسر پر۔
جنرل ہارون اسلام وہ پہلا شخص تھا جس نے دشمن سے بھرے علاقے میں جہاز سے چھلانگ لگائ۔ اپنے کمانڈر کی بہادری کو دیکھ کر ساتھی کمانڈوز کا جزبہ آسمان سے باتیں کرنے لگا۔

جنرل ہارون اسلام نے ناصرف وادی سوات کو دہشتگردوں سے پاک کروایا بلکہ اس وادی میں دوبارہ حکومتی رٹ قائم کرکے قومی پرچم لہرا دیا۔

آج یہی وادی سوات امن و امان کا گہوارہ بن چکی ہے، اور جہاں لاشیں لٹکی ہوتی تھیں وہاں آج گلاب کے پھول کھلے نظر آتے ہیں۔
سیاحوں کی امد کے حوالے سے وادی سوات ایک اہم ترین پوائنٹ بنتا جا رہا ہے۔ اور یہاں کی عوام علاقے میں امن لوٹ آنے پر انتہائ خوش نظر آتی ہے۔

یہ وہ جنرل تھا جس نے قوم کو دہشتگردی سے نجات دلانے کے لیے دہشتگردوں سے بھرے علاقے میں کود گیا۔ اور ایک ہمارے سیاسی لیڈران تھے جو پٹاخہ بھی پھٹ جاتا تو بیرون ملک بھاگ جاتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here