جیل میں قید میرے والد روئے، مگر کوئی ان کی مدد کو نہ آیا

0
31

حال ہی میں یہ بیان سابق وزیر اعظم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے دیا گیا ہے۔نواز شریف حالیہ دنوں مختلف تکالیف میں مبتلا ہونے کے باعث کوٹ لکھ پت جیل سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیئے گئے۔پنجاب حکومت کی جانب سے نواز شریف کے طبی معائنے کے لیئے میڈکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے ان کا مکمل طبی معائنہ اور مختلف ٹیسٹس کیئے۔حاصل کردہ رپورٹ کے مطابق نواز شریف کو مختلف بیماریاں لاحق ہیں جس میں دل کی بیماری واضح ہے۔

میڈکل بورڈ نے محکمہ داخلہ پنجاب سے سفارش کی کہ نواز شریف کو قلب کا مرض لاحق ہونے کے باعث پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا جائے۔جس پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کا یہ رد عمل سامنے آیا کہ مجھے واپس جیل ہی بھیج دیا جائے۔نواز شریف کی خواہش پر محکمہ داخلہ پنجاب نے نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے کوٹ لکھ پت جیل منتقل کردیا۔

اس سارے مرحلے کے دوران مر یم نواز نوازشریف کے سروسز ہسپتال میں موجودگی پر ان کی عیادت کے لیئے پہنچی۔ واپسی پر مریم نواز نے میڈیا کے دوستوں سے کچھ گفتگو فرمائی۔مریم نواز نے حکومت پاکستان سے شکووں کا امبار لگا دیا۔

مریم نواز یہ شکایت کرتی نظر آئیں کہ یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ میرے والد کو دل کا مرض لاحق ہے، ان کو اتنے دن سروسز ہسپتال میں رکھا گیا جہاں امراض قلب کا یونٹ ہی موجود نہیں۔اس کے علاوہ امراض قلب کے ماہرین ڈاکٹرز بھی اس ہسپتال میں نہیں، تو نواز شریف کو یہاں رکھ کر ان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا گیا۔اس ملک کے 3بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جا رہا ہے۔جبکہ سب سے بڑی بات، کے میرے والد جیل میں قید کے دوران روئے بھی مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔

یہ شکوے اور شکایتیں کسی سرکاری ہسپتال کے بارے میں کوئی پاکستان کا عام باشندہ کرتا تو مناسب لگتا۔ جس کو نہ تو پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات میسر ہوتی ہیں، نہ اس کے پاس اتنے پیسے ہوتے ہیں کہ وہ نجی ہسپتالوں میں یا باہر سے علاج کروا سکے۔یہ ہے وہ پاکستان کی اشرافیہ، جو اس ملک پر برسوں براہجمان رہنے کے بعد، آج ایک سرکاری ہسپتال میں طبی سہولیات نہ ہونے پر شکایت کرتی نظر آرہی ہے۔

مریم نواز صاحبہ،آپ کو شایدنہ یاد ہو، مگر اس ملک کی عوام کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس مسئلے کے ذمے دار اور کوئی نہیں بلکہ آپ کے والد محترم سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف ہیں۔پہلے تو آپ کو حقائق بتاتے چلیں کہ آپ کے والد نواز شریف صاحب 80کی دہائی سے اس ملک میں اقتدار میں رہے۔کہانی شروع ہوتی ہے جب وہ پہلی بار پنجاب کے وزیر خزانہ منتخب ہوئے اور پھر سلسلہ چلتا گیا۔نواز شریف صاحب پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے اور پھر 3مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے کا شرف بھی انہی کو حاصل ہوا۔یہ سلسلہ ہے آپ کے خاندان کے برسوں سے اس ملک میں اقتدار میں رہنے کا۔

عوام کا سوال ہے کہ اتنا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود کیا آپ ایک ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں آپ کا اپنا یا آپ کے خاندان والوں کا علاج ہو سکے؟باقی ملک کے علاوہ بھی اگر پنجاب، بلکہ صرف باغوں کے شہر لاہور کی بات کی جائے، جس کو شریف خاندان نے برسوں اپنا تخت بنائے رکھا، کیا اتنی بھی توفیق نہ ہوئی کہ لاہور میں ہی ایک اعلیٰ معیار کا ہسپتال تعمیر کرلیا ہوتاتاکہ آج آپ کو یہ شکایتیں نہ کرنی پڑ رہی ہوتی۔آپ کو دکھ پہنچا آپ کو والد کے رونے پر۔ مگر کبھی آپ کو تب دکھ ہوا جب ماڈل ٹاؤن میں نہتے لوگوں کو مارا گیا؟جب آپ کے خاندان کے برسوں اقتدار میں رہنے کے دوران لوگ غربت، بے روزگاری، ظلم اور نا انصافی سے روئے؟

دراصل شریف خاندان آج تک خصوصی طور پر لاہور کی عوام کے لیئے صرف میڑو بس اور اورنج ٹرین جیسے سفید ہاتھی تیار کرتی رہی۔جبکہ ہماری اشرافیہ ملک کے باہر علاج کروانے کی عادی ہے۔اس کے علاوہ وہ سمجھتی ہے کہ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے سے شاید ایک شخص دوسروں سے افضل ہوجاتا ہے۔اللہ نے جتنا موقع شریف خاندان کو اس ملک کی حکمرانی کے لیئے دیا، افسوس کے ساتھ یہ ملک پیچھے چلا جاتا گیا اور اس ملک کی اشرافیہ پھلتی پھولتی چلی گئی۔مریم نواز صاحبہ کی جانب سے کئے جانے والے شکوے شکایتیں اب کسی کام کے نہیں۔ ملک کی فلاح کے لیئے اور پاکستان کی بنیادی ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری تھا کہ صرف ہر آنے والے اگلے الیکشن کی تیاری کے بجائے اگر یہ اشرافیہ اس ملک کے مستقبل کی تیاری کرتی تو یہ دکھ بھری داستانیں سننے کو نہ ملتی۔

یہ ضروری تھا کہ پاکستان میں اعلیٰ معیار کے ہسپتال، تعلیمی ادارے اور ہر بنیادی سہولیا ت پر توجہ دی جاتی تاکہ اس ملک کا ہر شہری اسی ملک میں رہتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا، پاکستان میں ہی اعلیٰ طبی سہولیات سے مستفید ہوتا اور آپ کو دعائیں دیتا۔

آج جب اس اشرافیہ پر کڑا وقت آیا ہے تو ہمدردیاں سمیٹی جارہی ہیں۔مگر اب صرف عرض اتنی سی ہے کہ آپ کے منہ سے پاکستان میں موئثر سہولیات نہ ہونے کی باتیں اچھی نہیں لگتی۔اللہ نواز شریف صاحب کو صحت دے اوراشرافیہ کو ہدایت بھی عطا فرمائے۔آمین۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here