حکومت وقت کا عزم،ناجائز تجاوزات اور قبضہ گروپوں کا صفایا

0
21

تحریک انصاف نے اقتدار سمبھالنے کے بعد جہاں مثبت اقدام بھی اٹھائے ہیں وہیں اس کو بیشتر کٹھن چیلنجز کابھی سامنا ہے۔ تجاوزات ہمارے ہاں بیشتر شہروں میں قائم ہیں مختلف طرح سے جو کہ اب سے نہیں، کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ اور کوئی حکومت کا کام بظاہر نظر نہ آرہا ہومگر تجاوزات کے خلاف حکومت متحرک نظر آتی ہے۔ کراچی،لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں تیزی سے تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے اور حکومت کافی حد تک سرکاری عراضی کو قبضہ مافیا سے بازیاب کرانے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے۔

آپریشن کی ضرورت

اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہمارے ہاں کس حد تک تجاوزات موجود ہیں، برسوں سے قبضہ مافیا زمینوں پر قبضہ جما کر بیٹھے ہیں۔ اگر عام شاہراہوں کی ہی بات کرلی جائے جہاں کئی لوگ اپنی روزی کمانے کے لئے نکلتے ہیں، ٹھیلے، ریڑھیاں سڑک پر لگا دیتے ہیں جس کی وجہ سے سڑک تنگ ہوجاتی ہے، گاہک وہیں سڑک پر ٹھیلے اور ریڑھی والوں کے پاس رک جایا کرتے ہیں اور ٹریفک اپنی بدترین شکل اختیار کرجاتی ہے۔یہ تو وہ مسئلہ ہے جس سے ہر عام شخص پریشان ہوتا ہے۔ پھر آتے ہیں قبضہ مافیا والے جو کہ لوٹ مار کر کے، اثرورسوخ استعمال کرکے، ڈرا دھمکا کے عام شہریوں اور گزشتہ کئی حکومتوں کی نااہلیوں اور ملی بھگت سے کئی ہزار ایکڑ زمینوں پر ناجائز قبضہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔

یہ سب حالات دیکھتے ہوئے تجاوزات کے خلاف ایکشن لینا بنتا تھا اور جس کی اشد ضرورت آن پہنچی تھی۔برسراقتدار رہنے والی گزشتہ حکومتوں پر کبھی اس مسئلے کو لیکر ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جس میں سب سے بڑی ان کی اس مسئلے پر عدم توجہ اور حکومتی ارکان اور متعلقہ اداروں کی کرپشن، اقتدار میں رہنے والوں کے خود کے بنائے گئے غیر قانونی تجاوزات ہیں۔ جب احتساب کرنے والے خود ہی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے تو کس طرح یہ امید کی جاسکتی تھی کہ وہی لوگ اس نا جائز قبضوں اور تجاوزات کے خلاف ایکشن میں آئے گی۔

آپریشن کی شفافیت

جہاں تجاوزات کے خلاف آپریشن زوروشور سے جاری ہے وہیں اپوزیشن کی جانب سے تنقید کے نشتر چھوڑے جا رہے ہیں۔ حکومت آپریشن کو شفاف بنانے لیئے کوشاں ہے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے حکومت نے یہ واضع کیا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس کی مثال حکومت وقت نے کئی کارروائیاں پاکستان کے طاقتورترین افراد کے غیر قانونی تجاوزات اور قبضوں کے خلاف آپریشن کر کے بھی قائم کی۔جس میں سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی بات کی جائے تو لاہور کے ایک قبرستان میں موجود جناب عمران خان صاحب کی والدہ، خالہ اور دیگر اہل خانہ کی قبروں کے ارد گرد موجود ناجائز تجاوزات کو بھی مسمار کردیا گیا۔ اس بات کی پرواہ کیئے بغیر کے یہ قبریں اس وقت کے پاکستان کے وزیراعظم کے اہل خانہ کی ہیں۔دوسری جانب ملک ریاض مشہور و معروف بحریہ ٹاؤن کے مالک بھی اس آپریشن کی زد میں آئے۔تحقیقات کے بعد اس بات کا جب یقین ہوگیا کہ بحریہ ٹاؤن اسلام آباداور کراچی کئی ہزار کنال غیرقانونی طور پر سرکاری عرا ضی پر قائم ہے تو حکومت وقت نے یہ قبضہ بھی چھڑوایا اور جس کے خلاف مزید کارروائیاں جاری ہیں۔اس کے علاوہ بیشترایسے سابق اور موجودہ حکومتی وزراء کو بھی اس عمل میں نہیں بخشا گیااور ان سے بھی قبضہ حکومت کی جانب سے چھڑوایا جا رہا ہے۔اپوزیشن دوسری جانب حکومت وقت پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کی آڑ میں حکومت مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے کیئے گئے قبضوں کو نظرانداز کر رہی ہے اور اس کے علاوہ صرف غریب لوگوں کو بے گھر اور روضی روٹی سے محروم کر رہی ہے۔

متاثرین کا ردعمل اور حکومتی موئقف

دیکھتے ہی دیکھتے نئی حکومت کے آنے کے کچھ عرصے کے اندر جہاں مختلف شہروں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن چل رہا ہے، وہیں عوام کا ایک وہ غریب طبقہ بھی ہے جن کا گھر، کاروبار برسوں سے ناجائز اور غیرقانونی جگہ پر موجود تھا، مسمار کردیا گیا۔ حال ہی میں کراچی جیسے بڑے شہر میں مشہور و معروف ایمریس مارکیٹ کے اطراف سے درجنوں دکانیں جو کے برسوں سے اس جگہ غیر کانونی موجود تھی، ان سب کو صاف کردیا گیا۔عوام کا یہ ردعمل سامنے آرہا کہ یہ ان غریب لوگوں کے ساتھ شدید زیادتی اور ناانصافی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں ان کا کاروبار تباہ ہوچکاہے اور ان کے پاس اب کسی قسم کا زریعہ معاش نہیں۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ غریب اور متاثرہ لوگ جن کے پاس اب کوئی کاروبار اور گھر نہیں رہا، ان کو متبادل جگہ دی جائیں تاکہ غریب کے گھر کا چولہا جلتا رہے جو کے پہلے ہی اس ملک میں پس رہا ہے۔

حکومت جہاں اپنے عظم پر قائم ہے، تجاوزات کے خاتمے اور قبضہ مافیا سے سرکاری عراضیاں چھڑوانے کے مشن پر رواں دواں ہے وہیں حال ہی میں آپریشن کی زد میں آنے والوں کا ازالہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ حکومت نے یہ تلقین بھی کی ہے کہ جہاں جہاں ناجائز تجاوزات موجود ہیں لوگ رضاکارانہ طور پر خود ختم کرلیں نہیں تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔اصول کے حساب سے دیکھا جائے تو حکومت وقت کاتجاوزات کے خاتمے اور قبضہ مافیا سے سرکاری عراضی چھڑوانے کا کام بہت خوش آئند ہے۔برسوں سے حکومتوں کی نااہلی اور عدم توجہ کے باعث یہ کام جمع ہوتاگیا۔ حکومت کو چاہیئے کہ غریب عوام کو اس آپریشن کے تناظر میں ان کا خیال کرتے ہوئے ان کا ازالہ کرے، متبادل جگہ فراہم کرے۔ ایسی حکمت عملی تیار کرے کہ جس سے آئندہ آنے واے وقت میں دوبارہ ناجائز قبضہ کوئی نہ کرپائے تاکہ عوام اور حکومت دونوں کی مشکلات کا باعث نہ بنے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here