خواتین اور مردوں کو مساوی حقوق دینے والے چھ ممالک کون سے ہیں؟

0
31

دنیا بھر میں مردوں اور خواتین کو مساوی قانونی اور اقتصادی حقوق دینے والے ممالک کی تعداد صرف چھ ہے۔

ورلڈ بینک کی طرف سے جاری کردہ `ویمن، بزنس اینڈ دی لا` رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 187 ممالک کے مشاہدے کے بعد `مکمل مساوات` صرف چھ ممالک میں پائی گئی۔

واشنگٹن سے قائم ادارے نے 10 سال تک مالی اور قانونی عدم مساوات اور نقل و حرکت کی آزادی، زچگی، گھریلو تشدد اور اثاثہ جات کے انتظام کے حقوق جیسے پہلوؤں کا مشاہدہ کیا۔

ورلڈ بینک کی جانب سے صرف بیلجیئم، ڈینمارک، فرانس، لیٹویا، لیگزم برگ اور سویڈن کو ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جہاں ان تمام پہلوؤں پر دونوں جنسوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔

کن ممالک میں مردوں اور خواتین کو مساوی اقتصادی حقوق حاصل ہیں؟ (ورلڈ بینک)
ملکمساوی حقوق کا تناسب
بیلجیئم، ڈینمارک، فرانس، لیٹویا، لیکسم برگ، سویڈن100%
آسٹریا، آئرلینڈ، پرتگال، سپین، برطانیہ97.5%
آسٹریلیا، آئس لینڈ، سربیا96.8%
پیرو95%
جرمنی، موریشیئس91.8%
ایکواڈور89.3%
امریکہ83.7%
برازیل81.8%
چین76.2%
روس73.1%
انڈیا71.2%
انڈونیشیا64.3%
بنگلہ دیش49.3%
پاکستان46.2%
ایران31.2%
سعودی عرب25.6%

عالمی سطح پر مردوں کو ملنے والے حقوق میں سے خواتین کو 75 فیصد حقوق ہی مل پاتے ہیں۔

علاقائی فرق

مختلف علاقوں کے درمیان اوسط تعداد میں واضع فرق دیکھنے میں آیا۔ یورپ اور وسطی ایشیا میں اوسط تعداد84.7 فیصد تھی جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں یہ تعداد 47.3 فیصد تک گر گئی۔

83.75 فیصد تعداد کے ساتھ امریکہ کا شمار فہرست میں شامل پہلے 50 ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔

سعودی عرب کے قوانین عورتوں کو حقوق فراہم نہ کرنے کے لیے بدنام ہیں اور اسی وجہ سے 25.6 فیصد تعداد کے ساتھ سعودی عرب فہرست میں سب سے نیچے ہے۔

ورلڈ بینک
عالمی سطح پر مردوں کو ملنے والے حقوق میں سے خواتین کو 75 فیصد حقوق ہی مل پاتے ہیں

ایک بیان میں ورلڈ بنک کی قائم مقام صدر کرسٹالینا جورجیوا کا کہنا تھا `یہ انڈیکس جائزہ لیتا ہے کہ 25 سال کی عمر میں پہلی نوکری حاصل کرنے والی لڑکی یا بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ نوکری کرنے والی خاتون سے لے کر نوکری سے ریٹائر ہونے والی خاتون کے اقتصادی فیصلوں پر قانون کیسے اثرانداز ہوتا ہے۔`

`بہت سے قوائد و ضوابط اور قوانین عورتوں کو باہر کام کرنے یا کاروبار شروع کرنے سے روکتے ہیں اور اس امتیازی سلوک کے خواتین کی معیشت میں حصہ لینے اور افرادی قوت والی سرگرمیوں کو سر انجام دینے پر دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔`

“ہم جانتے ہیں کہ صنفی مساوات کے حصول کے لیے محض قوانین میں تبدیلی سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہے۔ قوانین پر بامعنی طور پر عمل کروانے کی ضرورت ہےکرسٹالینا جورجیوا , قائم مقام صدر، ورلڈ بینک

رپورٹ کچھ ملکوں کی طرف سے لیے گئے مثبت اقدامات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں 131 ممالک کے قوانین اور قوائد میں 274 اصلاحات ہوئی ہیں جس کی وجہ سے صنفی مساوات میں بہتری آئی ہے۔

کام کرنے کی جگہ پر عورتوں کا تحفظ

رپورٹ میں کہا گیا ہے`ان اصلاحات میں 35 ایسے ممالک شامل ہیں جہاں پر خواتین کو کام کرنے کی جگہ پر جنسی ہراس سے بچانے کے لیے قوانین متعارف کروائے گئے اور گزشتہ دہائی کے مقابلے میں دو بلین سے زائد خواتین کو تحفظ ملا۔`

صحرائے صحارا کے زریں علاقے میں دنیا کے چند سب سے غریب ممالک پائے جاتے ہیں جہاں پر گذشتہ دہائی میں صنفی مساوات کو فروغ دینے والی سب سے زیادہ اصلاحات ہوئی ہیں۔

Saudi women in front of a laptop screen
سعودی عرب میں مساوی صنفی حقوق کی شرح 25.6 فیصد ہے اور وہ 187 ممالک کی فہرست میں سب سے نیچے ہے

ورلڈ بینک کی رپورٹ میں ایک عورت کے کام کی مکمل زندگی کے ان عوامل جیسا کہ نوکری کی تلاش سے کاروبار چلانے اور پینشن لینے تک کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ 33 ممالک میں پیٹرنٹی لیو کا قانون متعارف کروایا گیا جبکہ 47 ممالک میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون پاس کیا گیا۔

ورلڈ بینک
رپورٹ کے مطابق 33 ممالک میں پیٹرنٹی لیو کا قانون متعارف کروایا گیا جبکہ 47 ممالک میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون پاس کیا گیا

کرسٹالینا جورجیوا کہتی ہے `ہم جانتے ہیں کہ صنفی مساوات حاصل کرنے کے لیے صرف قوانین میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ قوانین کو بامقصد طریقے سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سیاسی طور پر مسمم ادارے، معاشروں کے آر پار خواتین اور مردوں کی قیادت اور معاشرے میں رچے بسے ثقافتی معمولات اور رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔`

`بلآخر ڈیٹا ہمیں دکھاتا ہے کہ قوانین ہمیں ہماری صلاحیات پر پورا اترنے سے روکنے کی بجائے عورتوں کو بااختیار بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here