دوست ملک کی مہمان نوازی اپوزیشن کو ایک آنکھ نہ بھائی

0
21

وزیر اعظم عمران خان نے ابو ضبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد الناحیان کا پر تپاک استقبال کیا اور ان کی گاڑی خود ڈرائیو کر کے لے کر گئے۔یہ چیز ابو ضبی کے ولی عہد کا پاکستان کے اس دورے کی اہمیت بتاتا ہے۔

شیخ محمد بن زائد الناحیان وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دعوت پر ایک روزہ دورے لیئے تشریف لائے تھے۔ نور خان ایئر بیس پر ولی عہد کا وزیر اعظم عمران خان نے خود استقبال کیا۔جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے مر سیڈیس کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور نور خان ایئر بیس سے ولی عہد کو ساتھ گاڑی میں سوار کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب چل دیئے۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ حکومتوں کی ناقص معاشی پالیسیوں اور نا اہلی کے باعث پاکستان اس وقت بد ترین معاشی صورتحال سے دو چار ہے۔پاکستان کی برآمدات اور ذر مبادلہ کے ذخائر بلکل گرے ہوئے ہیں۔ منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے باعث ڈالر ملک سے جا تو رہا تھا مگر آ نہیں رہا۔

ان سب حالات میں جہاں وزیر اعظم پاکستان سعودی عرب، چین، متحدہ عرب عمارات،ترکی اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ساتھ اچھے اور مضبوط تعلقات قائم کر کے ان سے معاشی مدد مانگ رہے ہیں تاکہ پاکستان کی اس بھپری ہوئی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے، اپوزیشن اپنی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہے۔ یہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن اور چند میڈیا کے لوگوں کو جب تنقید کرنے کے لیئے کوئی جائز وجہ نہیں ملتی تو ایسی بات اٹھا کر اس کا بتنگڑ بنا لیا جاتا ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔

ایسا ہی اب عمران خان صاحب کے ابو ضبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد الناحیان کے لیئے گاڑی چلانے پر دیکھنے میں آرہا ہے۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب ہمیشہ کی طرح اپنے قائد کی محبت اور سیاسی انتقام کا رونا روتے ہوئے ولی عہد کا پاکستان کے دورے پر بھی سوالات اٹھانے لگی۔ان کا کہنا تھا کہ آخر کیا ضرورت تھی خان صاحب کو ولی عہد کا ڈرائیور بننے کی؟ کیا ولی عہد شیخ محمد بن زائد الناحیان عمران خان کے دوست ہیں؟مزید تنقید کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمارات میں وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی پراپرٹیز در اصل عمران خان کی ہیں۔

اندازہ لگائیں! یہ علم میں ہوتے ہوئے بھی کہ ابو ضبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد الناحیان کا پاکستان کا دورہ کس اہمیت کا حامل ہے، ایک دوست جو مشکل وقت میں آپ کی مدد کو آیا ہے، پھر بھی اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں رہتے۔حکومت اور اپوزیشن کا کھیل کھیلنے میں اپوزیشن اس حد تک اندھی ہو چکی ہے کہ کسی بھی قسم کے ملکی مفاد کی بات ہو یا دوست ممالک سے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیئے مدد مانگنا ہو، اپوزیشن اس تاک میں بیٹھی ہوئی نظر آتی ہے کہ بس موقع مل جائے تنقید کرنے کا چاہے وہ بھونڈے الزامات یا بس تنقید برائے تنقید ہو جس کا نہ کوئی سر نہ پیر ہوتا ہے۔ یہ ہمارے ملکی سیاست کا علمیہ ہے جس پر دکھ اور افسوس ہونے کے ساتھ شرم بھی محسوس ہوتی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان معیشت کو سہارا دینے کے لیئے جو کوششیں کر رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔یہ نا کہ ہماری معیشت کا معاملہ ہے بلکہ ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا بھی سوال ہے۔جن کے لیئے ہم ایک معاشی طور پر مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا پاکستان جہاں ہماری آنے والی نسلیں پیدا ہونے سے پہلے ہی مقروض نہ ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here