سندھ ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کے چرچے، سندھ پولیس کی سرزنش

0
19

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آفتاب احمد گورڑ نے کہا کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس اسٹریٹ کرائم کی روک تھام میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ جبکہ پنجاب سے پولیس کو بلوایا جائے تو ایک دن کے اندراسٹریٹ کرائم میں کمی آجائے گی۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس احمد گورڑ اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل 2رکنی بنچ نے سندھ بھر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

دائر کی گئی درخواست میں درخواستگزار مزمل ممتاز ایڈووکیٹ نے موئقف اختیار کیا کہ ملزم شہر میں سر عام اسلحہ لے کر گھومتے ہیں اور پولیس ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔شہر میں سر عام موبائل فونز چھینے جا رہے ہیں۔ جرائم کی روک تھام کے لیئے سندھ حکومت اور سندھ پولیس مکمل طور پر ناکام ہے۔شہر کے ڈی آئی جیز سے پوچھا جائے کہ کتنی تعداد میں مقدمات درج ہو رہے ہیں۔موبائل فونز چھیننے کی تعداد کا پتا لگانے کے لیئے موبائل فون کمپنیز کی معاونت لی جا ئے۔سندھ ہائی کورٹ اس معاملے پر کراچی بد امنی کیس میں پہلے ہی حکم دے چکی ہوئی ہے۔

جسٹس آفتاب احمد گورڑ نے ڈی آئی جیز کی جانب سے جواب جمع نہ کروائے جانے پر اظہار برہمی کیا اور کہا کے میڈیا پر اسٹریٹ کرائم کی خبریں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔سندھ پولیس کا یہی حال رہا تو زندگی بھر جرائم ختم نہیں ہو سکیں گے۔

جسٹس آفتاب گورڑ نے کہا کہ پنجاب سے پولیس بلائی گئی تو ایک دن کے اندر اسٹریٹ کرائم میں کمی نظر آئے گی۔عدالت نے آئی جی سندھ اور دیکر سے 19فروری کو رپورٹ طلب کرلی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here