سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کرنے کا اعلان

0
11

نفرت پھیلانے والے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف وفاقی حکومت نے اگلے ہفتے سے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا روایتی میڈیا سے زیادہ برا مسئلہ بن چکا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس پر قانون کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کو سزا دینی ہوگی۔

فواد چودھری نے بتایا کہ ایجنسیوں اور ایف آئی اے کے ورکنگ گروپ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود جعلی اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے رواں ہفتے گرفتاریاں عمل میں آئیں ہیں جبکہ اگلے ہفتے اس کے خلاف بڑا اور سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔سوشل میڈیا پر انتہا پسندی پھیلانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو ریگولرائز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے روایتی میڈیا کی جکہ لے لی ہے۔ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے ادارہ قائم کیا جا رہا ہے۔روایتی میڈیا پر نفرت انگیز باتوں پر قابو پا لیا گیا ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگلے مر حلے میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز چیزوں کو کنٹرول کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نفرت کا پرچار کرنے سے انتہاپسندی اور دہشتگردی پھیلتی ہے جس کی اجازت نہیں دیں گے۔پاکستان میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسے بے لگام آزادی حاصل ہے۔شدت پسند طبقہ کہتا ہے کہ اس کی رائے پر بحث نہ کی جائے۔ پھر وہ طبقہ فتوے دیتا ہے،لوگوں کو دوسرے کی آزادی سلب کرنے کا حق نہیں۔ دنیا میں ہر آزادی کی حد ہوتی ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ ریاست مکامہ چاہتی ہے جو اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک آپ دوسرے فریق کو اپنا موئقف پیش کرنے کی اجازت ہی نہ دیں۔ اپنے موئقف کے خلاف بات کرنے والے کو گولی مارنے اور قتل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔لہٰذا بڑا کریک ڈاؤن شروع ہوگا۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ دنیا کے مختلف معاشروں کوکسی نہ کسی طرح کی انتہا پسندی کا سامنا ہے۔بھارت میں مودی کے آنے کے بعد انتہاپسندی بڑھی جبکہ پاکستان کو بھی دہشتگردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے۔حالانکہ اسلام میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کا کوئی تصور نہیں۔دراصل افغانستان میں پھنسنے سے انتہا پسندی پھیلی کیونکہ غیر متعلقہ تنازعہ میں پھنسنے سے شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here