ضمانت کے باوجود نواز شریف ملک سے باہر نہیں جاسکتے، چیف جسٹس

0
20

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بے شک نواز شریف سزا ہونے کے بعد واپس آئے،ضمانت کے باوجود نواز شریف بیرون ملک نہیں جا سکتے۔

سپریم کورٹ میں العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت 3 رکنی بنچ نے کی جس کی سربراہی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کی۔ دوران سماعت سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور سابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے لیے 5 مختلف میڈیکل بورڈ بنائے گئے ،پہلا میڈیکل بورڈ 17 جنوری کو بنا، پی آئی سی کے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے رپورٹ دی تھی۔ دوسری میڈیکل رپورٹ جناح اسپتال کے ڈاکٹرز کی آئی، تیسری میڈیکل رپورٹ 30 جنوری 2019 جبکہ چوتھی رپورٹ سروسز اسپتال کی 5 فروری جب کہ پانچویں میڈیکل رپورٹ بھی جناح اسپتال کی طرف سے ہی آئی۔ 15 جنوری کو نواز شریف نے بازو اور سینے میں درد کی شکایت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری ہے، 15 جنوری سے پہلے نواز شریف کی صحت کیسی تھی؟، عدالت درد سے پہلے اور بعد کی رپورٹس کا موازنہ کرے گی۔ میڈیکل رپورٹس دیکھنے کا مقصد نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کی عاضہ قلب، گردے، شوگر اور ہائیپر ٹینشن کی ہسٹری ہے، پہلی رپورٹ میں نواز شریف کی عمر 65 سال لکھی گئی جب کہ دوسری رپورٹ میں عمر 69 سال لکھ دی گئی، چند دنوں میں ہی عمر چارسال بڑھا دی گئی، دوسری رپورٹ میں کہا گیا نواز شریف ہائیپر ٹینشن کے مریض رہے، دوسری رپورٹ میں نواز شریف کا بلڈ پریشر کافی ہائی تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بے شک نواز شریف سزا ہونے کے بعد واپس آئے، نواز شریف ضمانت کے باوجود بیرون ملک نہیں جا سکتے، جن کا ٹرائل ہورہا ہے وہ بھی واپس نہیں آئے، سزا یافتہ کیسے واپس آئے گا،کیا کوئی عدالتی مثال ہے کہ سزا یافتہ شخص کو بیرون ملک جانے دیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here