علامہ اقبال

0
6

اے آفتاب روح و روان جہاں ہے تو

شیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو

باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا

ہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کا

قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے

ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے

ہر شے کو تیری جلوہ‌ گری سے ثبات ہے

تیرا یے سوز و ساز سراپا حیات ہے

وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے

دل ہے خرد ہے روح رواں ہے شعور ہے

اے آفتاب ہم کو ضيائے شعور دے

چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے

ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو

يزدان ساکنان نشيب و فراز تو

تیرا کمال ہستی ہر جان دار میں

تیری نمود سلسلہ کوہسار میں

ہر چیز کی حیات کا پروردگار تو

زائيدگان نور کا ہے تاجدار تو

نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری

آزاد قيد‌ اول و آخر ضیا تری

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here