فیض آباد دھرنا کیس؛ سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ سنا دیا گیا

0
29

سپریم کورٹ نے 2017میں فیض آباد کے مقام پر ہونے والے دھرنے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر جج جسٹس فائز عیسی نے آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنایا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیصلہ تحریر کیا جو 43صفحات پر مشتمل ہے۔جسٹس فائز عیسی نے کیس میں ریماکس دیئے کہ فیصلہ کچھ دیر میں سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے گا۔از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سنانا آسان نہیں ہے۔

فیصلہ سنانے سے پہلے جسٹس فائز عیسی نے قائد اعظم محمد علی جناح کے تین فرمان پڑھ کر سنائے۔فیصلے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو تشدد، دہشتگردی اور انتہاء پسندی پھیلانے والوں کی نگرانی کا حکم دیا گیا۔مزید کہا گیا کہ 12مئی2007کو کراچی میں ہونے والے قتل عام میں حکومتی شخصیات ملوث تھیں جس نے تشدد کو ہوا دی۔ مظاہرین کے خلاف سڑکیں بلاک کرنے پر قانون کے مطابق کارروائی ہو جبکہ پر تشدد واقعات اور مواد کو نشر کیئے جانے پر میڈیا کے خلاف پیمرا قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

تحریر کئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے سیاسی جماعت بنانا اور احتجاج آئینی حق ہے۔ جبکہ احتجاج کے حق سے کسی دوسرے کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہیئے۔ہر سیاسی جماعت اس چیز کی پابند ہے کہ وہ اپنے فنڈنگ کے ذرائع بتائے۔الیکشن کمیشن قانون کی خلاف ورزی کرنی والی سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کرے۔

حکومت پاکستان، سیکر ٹری دفاع، سیکر ٹری داخلہ، آئی ایس آئی، آئی بی اور فوج کے سربراہان کو فیصلے کی کاپی بھجوانے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017کی منظوری کے دوران ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی پر تحریک لبیک کی جانب سے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دیا گیا تھا۔عدالت نے دھرنا ختم کرنے کے لئے حکم بھی جاری کیا تھا تاہم طاقت کے استعمال سے کئی انسانی جانوں کا ضیاع ہونے پر ملک بھر میں دھرنے دیئے گئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here