لیڈر شپ کی ضرورت کیوں ؟

0
0
A conceptual look at leadership and associated concepts.

لیڈر شپ کی ضرورت کیوں ؟

’’لیڈر ‘‘وہ ہوتا ہے جس میں درست رہنمائی کرنے کی اہلیت ہوتی ہے۔سادہ الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’’لیڈر‘‘ ذہانت ، معاملہ فہمی ،مردم شناسی اور اخلاق وکردار کا وہ مرکب ہوتاہے جو کسی بھی انسان کو اس قابل بناتاہے کہ وہ ایک پوری قوم کومتاثر اور اس پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے ۔کوئی بھی کامیاب لیڈر اپنی قوم کو ایک تحریک دیتا ہے،نیا نظریہ اور شعور دیتا ہے جس کی بدولت قوم اپنے بحرانوں سے نکل آتی ہے اور ایک کامیاب منزل کی طرف بڑھنے لگتی ہے.

تاریخ عالم پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتاہے کہ جب بھی کوئی قوم شدیدبحران اور مسائل کا شکار ہوئی ہے تو ایک ان ہی میں سے ایک 
حساس انسان اٹھتا ہے اور اپنی محنت ،لگن اور بلند عزم سے قوم کی ڈوبتی ہوئی نائو کو پار لگادیتا ہے ۔چاہے وہ بطحاء کی سرزمین سے نکلا ہو ا نورِ نبوت ہو ، دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی سلطنت کا نظریہ دینے والا شاعرِ مشرق ہو ،اپنی سوچ و تدبر سے اہل اسلام کو ایک عظیم سلطنت دینے والا محمد علی جناح ہو ،اپنی قوم کے لیے جدوجہد اور قربانیوںکی مثال نیلسن منڈیلا ہو یا انسانیت کی خدمت کی تڑپ رکھنے والا عبد الستار ایدھی ہو،ان سب میں ایک ہی قدرِ مشترک تھی کہ وہ وسیع سوچ اور اپنی منزل کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے والے تھے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے اگر ہم دیکھیں تو قرآن کریم کی یہ آیت ہمیں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے جس میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں :
انی جاعل فی الارض خلیفۃ(سورۃ البقرۃ:30) ترجمہ:بیشک میں انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بناتاہوں۔

جبکہ دربارِ رسالت ﷺ سے یہ ارشادِ گرامی بھی ہمیں قیادت کی ضرورت کا احساس دلاتاہے :
الا کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ(صحیح البخاری)
ترجمہ : آگاہ رہو کہ تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ذمہ دار سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔

قیادت ، لیڈر اور خلیفہ کا مفہوم اپنے اندر بے پناہ وسعت رکھتا ہے ۔عصرِ حاضر میں اس کی اہمیت اس لحاظ سے بڑھ گئی ہے کہ اس وقت ہم شدید اخلاقی ،علمی اور عملی انحطاط کا شکار ہیں ۔ہم خود علم کے حامل ہوتے ہوئے بھی پرائے بیساکھیوں پر چل رہے ہیں ۔’’لیڈرشپ‘‘ کا مطلب فقط سیاسی رہنمائی نہیں ،بلکہ درا صل یہ ایک ’’احساسِ ذمہ داری‘‘ ہے ۔جب انسان کے اندر یہ احساس جاگ جاتاہے تو وہ اعلیٰ بصیرت کا حامل اور کردار و اخلاق کا پیکر بن جاتاہے ،وہ اپنے آپ سے مخلص ہوکر ،قوم کا’’ مصلح‘‘ بن جاتاہے ۔وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے معاشرے سے اگر کوئی کمزوری ختم کرنی ہے تو پہلے اپنی علمی ، اخلاقی اور عملی بنیاد مضبوط کرنی ہوگی ۔یہی وزڈم ، یہی شعور جب انسان میں پنپنا شروع ہوجاتاہے تو وہ ترقی کے زینے چڑھتا ہوا مستقبل کا ’’لیڈر‘‘ بن جاتاہے۔

استاد محترم قاسم علی شاہ فرماتے ہیں:
’’ میں نے اپنی زندگی میں کئی افراد ایسے دیکھے جنہوں نے ترقی کی راہوں پر چلتے ہوئے کامیابی کے جھنڈے گاڑدیئے،یہ وہ لوگ ہیں جو مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو سونا بن جاتی ہے،وہ تنِ تنہا چلتے ہیں، لوگ ساتھ چل پڑتے ہیں اور کارواں بن جاتاہے،میں نے یہ راز جاننے کی کوشش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ ایسی شخصیات کے پیچھے ان کا مضبوط نظریہ اور لوگوں کو فائدہ دینے کی سوچ ہوتی ہے ۔اور یہی چیز انسان کو ’’عام‘‘ سے ’’خاص‘‘ بنادیتی ہے ۔‘‘

ہم اپنے معاشرے میں دیکھیں تو آج ہماری سب سے بڑی اجتماعی کمزوری یہ بن چکی ہے کہ ہم کسی بھی کام اور چیز کو اپنا نہیں سمجھتے ، ہم ملک کو فقط حکمرانوں پرچھوڑدیتے ہیں ، ہم گلی محلوں کی صفائی کو کارپوریشن کی ذمہ داری سمجھتے ہیں ، ہم میں ہر شخص دوسروں کو ذمہ دار تو ٹھہراتا ہے مگر اپنی ذمہ داری سے آنکھیں چُراتاہے۔ہمیں آج اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ ’’احساس‘‘ کی ہے ۔ اسی سوچ اور فکر کو اجاگر کرنے کے لیے ماحول کی شدید کمی ہے ۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here