منیر نیازی

0
3

آخری عمر کی باتیں

وہ میری آنکھوں پر جھک کر کہتی ہے ”میں ہوں”

آمد شب

دئے ابھی نہیں جلے

اب میں اسے یاد بنا دینا چاہتا ہوں

میں اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہتا ہوں

اپنے گھر میں

منہ دھو کر جب اس نے مڑ کر میری جانب دیکھا

اپنے شہر کے لئے دعا

اے شہر بے مثال ترے بام و در کی خیر

بازگشت

یہ صدا

بے بسی

پھلجھڑی سسکی کی گہری رات میں چھوٹی نہیں

چھ رنگیں دروازے

چھ رنگوں کے پھول کھلے ہیں

ڈرائے گئے شہروں کے باطن

ان دنوں یہ حالت ہے میری خواب ہستی میں

دیکھنے والے کی الجھن

سورج میں جو چہرے دیکھے اب ہیں سپنے سمان

دوری

دور ہی دور رہی بس مجھ سے

دشمن کی طرف دوستی کا ہاتھ

میرے جسم میں زہر ہے تیرا

دشمنوں کے درمیان شام

پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجب

اک اور گھر بھی تھا مرا

اک اور گھر بھی تھا مرا

ایک لڑکی

ذرا اس خود اپنے ہی

گزر گاہ پر تماشا

کھلی سڑک ویران پڑی تھی

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

حقیقت

نہ تو حقیقت ہے اور نہ میں

حرف سادہ و رنگیں

اک کلی گلاب کی

حسن میں گناہ کی خواہش

حسن تو بس دو طرح کا خوب لگتا ہے مجھے

ان لوگوں سے خوابوں میں ملنا ہی اچھا رہتا ہے

تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پر

اشارے

شہر کے مکانوں کے

جادو کا کھیل

رنگ برنگے شیشوں والی کھڑکی بند پڑی ہے اب

جادوگر

جب میرا جی چاہے میں جادو کے کھیل دکھا سکتا ہوں

کلپنا

رات ہے کتنی گہری کالی

خلش

وہ خوبصورت لڑکیاں

خوبصورت زندگی کو ہم نے کیسے گزارا

آج کا دن کیسے گزرے گا کل گزرے گا کیسے

خدا کو اپنے ہم زاد کا انتظار

اداس ہے تو بہت خدایا

خواہش کے خواب

گھر تھا یا کوئی اور جگہ جہاں میں نے رات گزاری تھی

کوئی اوجھل دنیا ہے

لمحہ لمحہ روزمرہ زندگی کے ساتھ ہے

میں

میں بھی دل کے بہلانے کو کیا کیا سوانگ رچاتا ہوں

میں اور بادل

شام کا بادل نئے نئے انداز دکھایا کرتا ہے

میں اور میرا خدا

لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام

میں اور شہر

سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئے

میں اور وہ

روز ازل سے وہ بھی مجھ تک آنے کی کوشش میں ہے

میں، وہ اور رات

کمرے میں خاموشی ہے اور باہر رات بہت کالی ہے

موسم سرما کی بارش کا یہ پہلا روز ہے

موسم سرما کی بارش کا یہ پہلا روز ہے

موت

ہر طرف خاموش گلیاں زرد رو گونگے مکیں

میرے دشمن کی موت

تیغ لہو میں ڈوبی تھی اور پیڑ خوشی سے جھوما تھا

ملن کی رات

اے دوشیزہ! مت گھبرا

محبت اب نہیں ہوگی

ستارے جو دمکتے ہیں

نئی محفل میں پہلی شناسائی

نئی جگہ تھی دور دور تک آخر پر دیواریں شب کی

نگار خانہ

کسی کی شربتی نظر

پاگل پن

اک پردہ کالی مخمل کا آنکھوں پر چھانے لگتا ہے

پہلی بات ہی آخری تھی

پہلی بات ہی آخری تھی

رات کی اذیت

رات بے حد چپ ہے اور اس کا اندھیرا شرمگیں

صدا بصحرا

چاروں سمت اندھیرا گھپ ہے اور گھٹا گھنگھور

سائے

کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے

سپیرا

میں ہوں ایک عجیب سپیرا

سپیرا

میں ہوں ایک عجیب سپیرا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here