’میری گرل فرینڈ مجھ پر تشدد کرتی تھی، مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھے جان سے نہ مار دے‘

0
19

انتباہ: اس کہانی میں بیان کی گئی باتیں آپ کو پریشان کر سکتی ہیں۔

ایلیکس سکیل، 22

میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب میری گرل فرینڈ جورڈن نے پہلی مرتبہ مجھ پر کھولتا ہوا پانی پھینکا تھا۔

ہم بیڈفورڈ شائر کے ایک گھر میں تین سال سے ساتھ رہ رہے تھے۔ ایک دن اس نے مجھے کمرے کے کونے میں لے جا کر گھیر لیا۔ اس کے ہاتھ میں ابلتے ہوئے پانی سے بھری کیتلی تھی۔

اسے میرا گرے رنگ کے کپڑے پہننا پسند نہیں تھا یا اسے میرے بالوں کا سٹائل پسند نہیں تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے شروع ہونے والے جھگڑے نو ماہ کے جسمانی تشدد میں بدل گئے۔

مجھے اس سے بہت ڈر لگتا تھا۔

میں آج بھی اُس پانی کا پہلا قطرہ اپنی جِلد پر گرتا دیکھ سکتا ہوں۔ یہ سب کچھ دھیرے دھیرے ہوا۔ اس کے بعد میری جلد جل کر سکڑ گئی۔

ویسا درد میں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔

میں نے اس کی منتیں کیں کہ مجھے ٹھنڈے پانی سے بھرے ٹب میں لیٹنے دے۔ اس وقت درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے میں صرف یہی سوچ سکتا تھا۔

اس نے مجھے ٹب میں لیٹنے دیا اور مجھے فوری سکون ملا۔ آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ ایسا ہونے کے بعد اپنے جسم کو یخ بستہ پانی میں رکھنا کتنا اچھا لگتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے اچھا احساس ہے۔ لیکن پھر اس نے مجھ سے کہا کہ مجھے ٹب سے نکلنا ہو گا ورنہ وہ دوبارہ ایسا کرے گی۔

اگر میں کراہنے لگتا اور کہتا کہ مجھے تکلیف ہو رہی ہے تو وہ کہتی ’پھر سے ٹب میں لیٹ جاؤ۔‘ میں ٹب میں لیٹ جاتا تو وہ پھر کہتی کہ اٹھ جاؤ۔ وہ صرف میرے ذہن کے ساتھ کھیل رہی تھی۔

وہ میری زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول کرنا چاہتی تھی۔

مجھے یاد ہے کہ میں ٹب میں بغیر کپڑوں کے لیٹا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں اوون میں پک رہا ہوں۔ میری جلد اتر رہی تھی۔ وہ واقعی بہت ہولناک تھا۔

مردوں پرتشدد
Image captionمردوں پر کیے جانے والے گھریلو تشدد پر بنائی گئی دستاویزی فلم کی ایک جھلک

انگلینڈ اور ویلز میں کیے گئے کرائم سروے کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2018 کے اختتام تک ایک سال میں 16 سے لے 59 سال تک کے تقریباً 20 لاکھ افراد گھریلو تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ جن میں سے ایک تہائی مرد تھے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک لڑکی یا لڑکا اپنے گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں جسمانی تشدد کا شکار ہوتا ہے۔ لوگوں کو علم نہیں ہے کہ مردوں کے ساتھ کتنے بڑے پیمانے پر گھریلو تشدد ہو رہا ہے۔

انگلینڈ اور ویلز کی پولیس کے مطابق 2017 میں مردوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے 150000 واقعات سامنے آئے جن کی تعداد 2012 سے دوگنی ہے۔ ایک خیراتی ادارے کے مطابق انگلینڈ میں گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والے مردوں میں ایک فیصد سے بھی کم مردوں کو پناہ گاہوں میں بستر الاٹ کیے جاتے ہیں جبکہ لندن میں مردوں کو بستر الاٹ ہی نہیں کیے جاتے۔

ایلیکس سکیل
Image captionایلیکس اور ان کی گرل فرینڈ جورڈن

سنہ 2012 میں 16 سال کی عمر میں جورڈن ورتھ سے میری پہلی ملاقات کالج میں ہوئی۔ وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی اور اُسے یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈ شائر میں آرٹس پڑھنے کا موقع ملا۔ وہ ایک اُستانی بننا چاہتی تھی۔ پہلے چند ماہ میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا، ایک ساتھ فلمیں دیکھنا اور چہل قدمی کرنے جیسی عام چیزیں کیں۔ دوستوں کو یہ بتانا کہ میری گرل فرینڈ ہے، ایک نئی بات تھی۔ وہ پوچھتے تھے `تم نے ویک اینڈ پر کیا کیا؟ اور میں جواب دیتا تھا کہ میں جورڈن کے ساتھ تھا۔

اور پھر چند ماہ بعد کچھ عجیب واقعات پیش آئے۔ اس وقت مجھے لگا کہ جورڈن صرف میری توجہ چاہتی ہے۔ میرے والدین نے پیسے دیے تاکہ ہم لندن جا کر `دی لوئن کنگ` فلم دیکھ سکیں اور وہاں پر جورڈن اچانک غائب ہو گئی۔ ہم سب کافی دیر تک اسے ڈھونڈتے رہے اور پھر اچھا خاصا وقت گزرنے کے بعد ہم نے اسے ریسیپشن پر ہنس ہنس کر ہلکان ہوتے دیکھا۔ میرے لیے یہ بہت عجیب بات تھی۔ مجھے لگا کہ وہ چاہتی تھی کہ میں پریشان ہو جاؤں اور اس کی فکر کروں تاکہ وہ مجھے قابو کر سکیں۔

لیکن جلد ہی جورڈن نے مجھے میرے دوستوں اور خاندان والوں سے مکمل طور پر دور کر دیا۔ اس نے مجھے ان سے ملنے سے روک دیا اور میرے فیس بُک اکاؤنٹ پر بھی قبضہ کر لیا جو گھریلو تشدد کا ایک کلاسک حربہ ہے۔ میں کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا۔

ایلیکس سکیل
Image captionایلیکس اپنی اٹھارویں سالگرہ پر اپنی والدہ اور جڑواں بھائی کے ساتھ

اس نے مجھے کھانا دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے میرا وزن کم ہو گیا۔ میں نے اس کے رویے پر بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ الٹا مجھ پر ہی الزام ڈال دیتی اور کسی نہ کسی طریقے سے مجھے ہی مسئلہ قرار دے دیتی۔

مجھے پتا ہوتا تھا کہ میری غلطی نہیں ہے لیکن وہ مجھے قائل کرتی رہتی تھی۔ آپ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ’مجھ سے کیا غلطی سرزد ہو رہی ہے؟‘ پھر آپ غلطی سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آپ سے شکایت کرتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں۔ جب وہ مجھ سے کہتی تھی ’مجھے گرے رنگ پسند نہیں ہے‘ یا ’مجھے وہ جوتے پسند نہیں ہیں‘ تو میں سوچتا تھا ’ٹھیک ہے، میں انھیں نہیں پہنوں گا‘ کیونکہ میں اسے خوش کرنا چاہتا تھا۔

لیکن درحقیقت وہ مجھے ایسا شخص بنانا چاہتی تھی جو سب کچھ اس کی مرضی سے کرے۔ اِس طرح کی چیزیں آپ کی خود اعتمادی کو مار دیتی ہیں۔ اور آپ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں جو آپ کبھی جیت ہی نہیں سکتے۔ یہ بہت مایوس کُن بات ہے۔

ہمارے دو بچے تھے اور میں امید کرتا رہا کہ شاید کچھ بدل جائے۔ بچے چھوٹے تھے لیکن ظاہر ہے جو بھی ہو رہا تھا وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ اس نے انھیں تکلیف پہنچانے کی کوشش نہیں کی لیکن مجھے ڈر تھا کہ اگر میں چلا گیا تو وہ انھیں تشدد کا نشانہ بنانے لگ جائے گی۔ اس لیے میں رک گیا۔

جورڈن کے ساتھ میں نے واقعی کچھ اچھا وقت بھی گزارا۔ میں ان لمحات میں خوش تھا، ہم ہنستے تھے اور ساتھ انجوائے کرتے تھے۔ ہر پل ڈراؤنے خواب کی طرح نہیں تھا۔ اور میں واقعی کوشش کر کے ہمارے رشتے کو کامیاب بنانا چاہتا تھا۔ آخر مجھے اس سے محبت تھی۔

18ماہ میں ذہنی تشدد جسمانی تشدد میں بدل گیا۔ اس سب کی شروعات تب ہوئی جب وہ کانچ کی ایک بوتل سرہانے رکھ کر سونے لگی۔ وہ مجھ پر دوسری لڑکیوں سے تعلقات رکھنے، ان سے بات یا میسیج کرنے کے الزامات لگاتی رہتی جن میں کوئی سچائی نہیں تھی۔ وہ مجھ سے کہتی کہ لوگوں کی طرف سے اُسے میسیجیز موصول ہوئے ہیں لیکن بعد میں مجھے پتا چلا کہ وہ سب من گھرت تھا۔ پھر وہ میرے سونے کا انتظار کرتی اور میرے سر پر بوتل دے مارتی۔ پھر وہ مجھ سے پوچھتی `تم کیا سوچ رہے ہو؟`

ایلیکس سکیل
Image captionایلیکس کے منہ کا ایکسرے جس میں ان کا ٹوٹا دانت دیکھا جا سکتا ہے

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مجھے درد ہی نہیں ہوتا تھا۔ مجھے درد سہنے کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ میں درد محسوس ہی نہیں کرتا تھا۔ تو وہ مجھے تکلیف پہنچانے کا زیادہ برا طریقہ ڈھونڈتی۔ بوتل کے بعد ہتھوری کی باری آئی۔ اس کے بعد وہ کچھ بھی مجھے دے مارتی۔

ایک بار اس نے مجھے لیپ ٹاپ کا چارجر دے مارا۔ اس نے تار ڈھیلی کر کے اپنے کلائی سے باندھی ہوئی تھی اور گھما کر چارجر کا پلگ میرے سر پر مارا۔ خون بہت تیزی سے بہنے لگا اور زمین پر ٹپکنے لگا۔ میں چلایا `کیا میری مدد کرو گی، پلیز؟` اور پھر میں نے جورڈن کو ہنستے ہوئے سیڑھیوں سے اوپر جاتے دیکھا۔ اس نے کہا `تم جا کر مر کیوں نہیں جاتے؟ کسی کو بھی تمہاری پرواہ نہیں ہے۔`

آخر کار جورڈن نے چھُریاں استعمال کرنا شروع کر دیں۔ وہ مجھ پر وار کرتی۔ ایک بار میری کلائی کی اہم شریان کٹتے کٹتے بچی۔ اس کے بعد کھولتے پانی کی باری آئی۔ میری جِلد بری طرح جھلس گئی۔ جب میں درد کا عادی ہوجاتا تو وہ پہلے سے زیادہ تکلیف پہنچاتی۔ کھولتے پانی کے بعد تو موت کی باری ہی آتی۔

مردوں پرتشدد
Image captionوہ کتیلی جو جورڈن گھر میں استعمال کرتی تھیں

میں جورڈن اور اس کی حرکات سے خوفزدہ تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر میں نے کچھ کہہ دیا تو مجھے جان سے مار دے گی۔ میں ہسپتال جاتا اور کہتا کہ میں پھسلا اور میرا سر لگ گیا یا بہت گرم پانی سے نہانے کی وجہ سے میں جل گیا۔ چیخنے چلانے کی آوازیں سن کر پڑوسیوں نے چند بار پولیس کو بھی بلایا لیکن میں جورڈن کے لیے جھوٹ بولتا اور بہانے کرتا۔ یہ اچھی بات نہیں تھی مگر میں نے اپنی جان بچانے کے لیے ایسا کیا۔ میری آنکھوں کے گرد مار پیٹ کے نشانات تھے۔ وہ نشانات اپنے میک اپ کے ذریعے چھپا دیتی کیونکہ وہ اپنے کیے کو چھپانا چاہتی تھی۔

مجھے محسوس ہوا کہ میرا جسم کام کرنا بند کر دے گا۔ میرا وزن 30 کلو تک کم ہو گیا۔ بعد میں ڈاکٹرز نے مجھے بتایا کہ بہت گہرے زخموں اور بہت کم کھانا ملنے کی وجہ سے میں موت سے 10 دن دور ہوں۔ 2018میں تشدد کا یہ سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب ایک پولیس افسر پرانی ملاقات کے سلسلے میں دوبارہ پوچھ گچھ کرنے آئے اور مجھ سے سوالات کیے۔ میں نے خوف ناک سچ اُگل دیا۔ میرے زخم بہت گہرے تھے اور میں وزن کم ہونے کی وجہ سے لاغر ہو گیا تھا۔ اب تک میں نے ہر بات کی تردید کی تھی۔ لیکن اب میں مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

مردوں پرگھریلو تشدد
Image captionپولیس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو جس میں ایلکس کو پریشان دیکھا جا سکتا ہے

اگر پولیس اس مخصوص وقت پر مداخلت نہ کرتی تو آج میں قبر میں ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ میں اتنا خوش قسمت ضرور تھا کہ گہرے زخم اور ٹھوس شواہد ہونے کی وجہ سے تمام کڑیاں مل گئیں اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔

مجھے لگتا ہے جورڈن نے یہ سب حسد کی وجہ سے کیا۔ میرے دوست اچھے تھے، خاندان والوں کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے تھے اور اُس نے مجھے سب سے دور کر دیا۔ میرے پاس جو کچھ بھی تھا، وہ مجھے اُس سب سے بہت دور لے گئی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار اس نے مجھ سے کہا تھا `میں تمہاری زندگی تباہ کرنا چاہتی ہوں۔`

جہاں ہر چھ میں سے ایک مرد زندگی میں کبھی نہ کبھی گھریلو تشدد کا شکار ہوتا ہے وہیں 20 میں سے ایک مرد ہی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جورڈن کو کبھی افسوس نہیں ہوا حتیٰ کہ جب پولیس اس سے سوال کرنے آئی تب بھی نہیں۔ پولیس کی فوٹیج میں لگتا ہے کہ وہ اپنے کیے پر ندامت محسوس کر رہی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس نے جو میرے ساتھ کیا اس سے زیادہ اسے اپنے پکڑے جانے کا افسوس ہے۔ میرا ماننا ہے کہ عدالت میں اس نے جرم کا اعتراف کم سزا پانے کے لیے کیا۔

پولیس تفتیش
Image captionپولیس جورڈن سے تفتیش کر رہی ہے

مجھے نہیں پتا کہ جورڈن اپنے آپ کو اس رویے کی وضاحت کیسے پیش کرتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو گھریلو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں انھیں ایسا کر کے مزا آتا ہے۔ یہ ایک نشے کی مانند ہے۔ اور وہ جتنا زیادہ ایسا کرتے ہیں انھیں لگتا ہے کہ ان کے پکڑے جانے کے امکانات اتنے کم ہیں اور یہ سلسلہ اور زیادہ برا ہوتا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ جنت میں ہیں اور آپ دوزخ میں۔ ایسا کر کے انھیں وہ ملتا ہے جسے وہ شدت سے حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی مکمل کنٹرول۔ اورآپ کو زندگی میں وہ سب مل رہا ہوتا ہے جو آپ کو کبھی نہیں چاہیے ہوتا، بلکہ اس سے بھی بدتر۔ پھر جب وہ پکڑے جاتے ہیں تو انھیں بہت بڑا دھچکا لگتا ہے۔

جورڈن کو ملنے سے پہلے میں نے مردوں پر کیے جانے والے گھریلو تشدد کے بارے میں سنا تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ میں جانتا تھا کہ یہ بہت برا تھا، بہت زیادہ برا۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں۔ اس سب کے دوران میں ایک بھی ایسا جرم نہ بتا پاتا جس کے لیے وہ گرفتار ہو سکتی تھی کیونکہ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا۔

عجیب بات یہ ہے کہ میں نے کبھی بھی اُن حالات سے نکلنے کے لیے جلدی نہیں کی۔ مجھے لگتا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ میں اُن حالات سے باہر نکل سکوں۔ میرے پاس واقعی کچھ نہیں تھا۔ اور ظاہر ہے ہمارے دو بچے تھے۔ میں نے صرف امید کی کہ یہ سب رک جائے گا۔ اگر مجھے چوٹ کم لگتی تو وہ بہت اچھا دن ہوتا تھا۔

مجھے بچوں کی فکر تھی کہ انھیں کچھ نہ ہو۔ آپ اس طرح کے حالات میں کسی کو چھوڑ کر جانے کا نہیں کہہ سکتے۔ یہ بدترین بات ہو گی۔ آپ کو کہنا پڑتا ہے `دیکھیں اگر آپ نے کبھی بھی مجھ سے بات کرنی ہو تو میں یہیں ہوں۔`

ایلیکس سکیل
Image captionایلیکس سکیل اپنے بچے کے ساتھ

اپریل 2018 میں جورڈن کو ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس نے ایک قریبی رشتے میں کنٹرول کرنے، تشدد آمیز رویہ اختیار کرنے، جان بوجھ کر تکلیف پہچانے اور شدید جسمانی نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا۔ جب مجھے پتا چلا تو میں نے کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔ مجھے اب چیزوں کے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ پہلے جب میری پسندیدہ فٹبال ٹیم جیتتی تھی تو میں خوشی سے پاگل ہو جاتا تھا لیکن اب میں کہتا ہوں کہ چلو اُن کا مقصد پورا ہو گیا۔ میرا خیال ہے یہ مجھ پر ٹوٹنے والے قہر کی وجہ سے ہے۔ جب عدالت نے فیصلہ سنایا تو میں نے کہا `یہی انصاف ہے`۔ اس کے بعد میں نے سُکھ کا سانس لیا اور میرے کندھوں پر سے بھاری بوجھ اتر گیا۔ جب مجھے پتا چلا کہ اُسے ویگن میں بٹھا کر جیل لے جا رہے ہیں تو پانچ سال میں پہلی بار میں پیچھے مُڑ کر دیکھ سکتا تھا اور مجھے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔

بچوں کو اندازہ نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ میں نے عدالتی دستاویزات جیسی بہت سے معلومات بچوں کے لیے رکھ لی ہیں تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو پڑھ سکیں۔ جب وہ سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے تو میں انھیں سب سمجھا دوں گا۔ مجھے صرف اس بات کی پرواہ ہے کہ ایک دن وہ مجھ سے کہیں گے `ابو، آپ نے بہت اچھا کیا`۔

جورڈن برطانیہ کی پہلی عورت ہیں جنہیں تشدد آمیز رویے اور کنٹرول کرنے کے جرم میں جیل بھیجا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ معاشرے میں مردوں کا گھریلو تشدد کے سلسلے میں مدد طلب کرنا معیوب تصور کیا جاتا ہے اور اکثر پولیس بھی مردوں کے خلاف گھریلو تشدد کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتی۔ اکثر مردوں کو گھریلو تشدد کی مہمات میں شامل بھی نہیں کیا جاتا۔ یہ غلط بات ہے۔ اس سے صنف کا کیا تعلق؟

میں اتنا بیوقوف نہیں ہوں کہ ہر کسی کو جورڈن جیسا سمجھوں۔ لیکن فی الحال میں ایک اور رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں صرف ان چیزوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں جن سے میں بچپن میں لطف اندوز ہوا کرتا تھا کیونکہ جورڈن نے سب کچھ مجھ سے چھین لیا اور تباہ کر دیا جیسے کہ میری فٹبال ٹرافیز، فٹبال میچ کے ٹکٹ، ذاتی چیزیں۔۔۔ سب تباہ ہو گیا۔ میں مردوں کے خلاف گھریلو تشدد کے خیراتی اداروں کی مدد سے زندگی دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں مستقبل میں تشدد زدہ مردوں کے لیے پناہ گاہ کھولنے کا خواہشمند ہوں۔

ایلیکس سکیل
Image captionایلیکس اور جورڈن کے گھر کے باہر لگی ’ہوم سویٹ ہوم‘ کی سجاوٹے تختی

مجھے کبھی کبھار لگتا ہے کہ میں شعور پھیلانے کے لیے زندہ ہوں۔ چھُری غلط جگہ پر کیوں نہیں لگی؟ مجھے غلط جگہ پر چوٹ کیوں نہیں لگی؟ مجھے ہزار بار ضرب لگی لیکن میری کھوپڑی فریکچر نہیں ہوئی۔ یہ بات مجھے حیران کر دیتی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کے پیچھے ضرور کوئی وجہ ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں لوگوں کی مدد کروں۔ میں امید کرتا ہوں کہ دوسرے متاثرین کے لیے حالات بہتر ہو جائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here