نئے پاکستان کا پرانے پاکستان سے فرق

    0
    27

    ہر چیز کا ایک اچھا اور برا، دونوں پہلو ہوتے ہیں۔مگر یہ دیکھنے یاپرکھنے والے پر انحصار ہوتا ہے کہ وہ کس نظر سے کونسے پہلو کو دیکھتا ہے۔ایسی ہی ایک نظر سے جب نئے پاکستان میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہم شیرہ علیمہ خان کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان کی بے نامی جائیدادوں سے متعلق کیس میں طلب کیا گیا تو ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جو کسی نے سوچا نہ ہوگا۔

    در اصل تھوڑے سے ماضی قریب کو اگر دیکھا جائے پرانے پاکستان میں، کس نے نہیں دیکھا کہ جب ملک کی اشرافیہ کا احتساب عمل میں آیاتو حکومتی وزراء اور ترجمان اپنی بنیادی ذمہ داریاں ترک کر کے قطار بنائے صرف ایک خاندان کا دفاع کرنے میں پیش پیش نظر آتے تھے۔ پانامہ کیس سے متعلق جے آئی ٹی نے جب شریف خاندان کا احتساب شروع کیا تھا اور جب جب شریف خاندان میں سے کوئی بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے پہنچتا تھا تو پوری کی پوری کابینہ شریف خاندان کے ساتھ پہنچ جایا کرتی تھی اور شریف خاندان کی کرپشن اور بے نامی جائیدادوں کے ذاتی کیس کو اپنا سمجھ کر ہر فورم پر دل و جان سے دفاع کرتی نظر آتی تھی۔ طلال چودھری،دانیال عزیز، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، پرویز رشید،احسن اقبال جیسے بڑے نام بطور وزیر اپنی صلاحیتوں کو صرف شریف خاندان کی پیشی میں ساتھ جانے اور ٹی وی پر ان کا دفاع کرنے میں لگا دیتے تھے۔پرانے پاکستان میں یہ ایک سلطنت کی صورتحال تھی جہاں بادشاہ سلامت اور اس کے خاندان پر لگے الزامات کا جواب وہ خود دینے کے بجائے وزراء یہ کارنامہ سر انجام دیا کرتے تھے۔

    نئے پاکستان میں بھی ایسا موقع آیا کہ جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہم شیرہ علیمہ خان کو بے نامی جائیداد کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ نے طلب کیا تو مناظر پرانے پاکستان کے احوال سے بلکل مختلف تھے۔حکومت پاکستان کا کوئی نمائندہ، وزیر یا ترجمان وزیر اعظم پاکستان کی ہمشیرہ کے کیس میں ان کے دفاع کو نہیں پہنچا۔نہ ہی علیمہ خان شاہانہ پروٹوکول اور وزراء کے قافلے سمیت سپریم کورٹ تشریف لائیں اور نہ ہی انہوں نے تحقیقاتی اداروں کو سپریم کورٹ کی دہلیس پر کھڑے رہ کر دھمکیاں دی جو کہ ایک رواج پرانے پاکستان میں دکھائی دیتا تھا۔

    حکومتی وزراء کا کام حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنا،عوام کی خدمت اور ان کے لیئے آواز اٹھانا ہے۔ نہ کے اپنے پارٹی کے لیڈر اور اس کے خاندان کی ذات پر لگے الزامات کا دفاع کرنا ہے۔ہر شخص اپنی ذات کا جوابدہ خود ہونا چاہیئے۔ وہ بات الگ ہے کہ علیمہ خان کی بے نامی جائیدادوں کا معاملہ کیا ہے۔لیکن اس معاملے میں جو اچھا پہلو دکھا اس کو ضرور سراہنا چاہیئے۔

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان، ان کی ہم شیرہ علیمہ خان اور حکومتی وزراء کو اس معاملے میں کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے جمہوری ملک میں جمہوری روایات کو اپنایا ناکہ جمہوریت کی آڑ میں سلطنت اعلٰی کا مظاہرہ کیااور پرانے اور نئے پاکستان میں ایک تناظر سے واضع فرق ثابت کیا۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here