نواز شریف نے حکومت پر ڈاکٹرز کو ان کا علاج کرنے سے روکنے کا الزام لگا دیا

0
23

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے ڈاکٹرز کو صرف ان کے مرض کی تشخیص کا کہتے ہوئےعلاج کرنے سے روکا ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ علالت کے باوجود نواز شریف مکمل حوصلے میں اور اللہ پر بھروسہ کیئے ہوئے ہیں۔ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور انہیں کئی دن سے مسلسل انجائنا کی تکلیف ہورہی ہے۔اہل خانہ کے اصرار کے باوجود انہوں نے ہسپتال منتقل ہونے سے ایک بار پھر معذرت کی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کے سینیئر پروفیسر نے گزشتہ روز نواز شریف کا جیل میں معائنہ کیا اور ان کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ ایک مرتبہ پھر ڈاکٹرز نے نواز شریف کا فوری علاج شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔نواز شریف کو جنوری سے دل کی تکلیف شروع ہوئی مگر حکومت علاج کے معاملے پربے حسی کا مظاہرہ کرتی رہی۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پاکستان کے تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کے ساتھ حکومت کی جانب سے علاج کے معاملے پر بھی انتقام اور سیاست کرنا افسوسناک ہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سمیت اپوزیشن کے تمام رہنمائوں اور عوام کی جانب سے نیک خواہشات کے اظہار پر نواز شریف ان کے مشکور ہیں۔

نواز شریف سے اپنی ملاقات کا تکرہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ نواز شریف نے ان سے کہا کہ جب مجھے سروسز، پی آئی سی اور جماح ہسپتال لے جا یا گیا تو وہاں کے ڈاکٹرز نے کہا کہ ہمیں صرف بیماری کی نوعیت پتا لگانے کا کہا گیا، علاج شروع نہیں کر سکتے۔ حکومت ایک مرتبہ پھر تمسخر اڑانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز نے علاج شروع کرنے کے حوالے سے بے بسی ظاہر کی اور کہا کہ یہ ہمارا اختیار نہیں ہے ، ہمیں حکومت نے علاج نہیں صرف مرض کی تشخیص کا کہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here