ن لیگ اور پی پی پی؛ متحدہ اپوزیشن ممکن، اتحادی حکومت ناممکن

0
37

متحدہ اپوزیشن یہ دعویٰ کرتی ہے کہ چونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مانگے تانگے کی حکومت ہے، متحدہ اپوزیشن جب چاہے یہ حکومت گرا سکتی ہے مگر جمہوریت کے تسلسل کو جاری رکھنے کے پیش نظر کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہتے۔

حالیہ عام انتخابات کے نتائج نے جہاں ملکی سیاست کا رخ یکسر تبدیل کردیا، وہیں سیاست کے پرانے کھلاڑیوں کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک طویل عرصے کے بعد ایک ساتھ اپوزیشن میں بیٹھنے کا موقع ملا۔یہ بات درست ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس حکومت تو ہے مگر اقتدار نہیں ہے جس کے مزے مسلم لیگ (ن) نے پچھلے پانچ سالوں میں لوٹے۔قومی اسمبلی میں نمبر گیم کا احوال یہ بتاتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جہاں ایم کیوایم پاکستان، بلوچ نیشنل پارٹی (مینگل) سمیت مختلف جماعتوں کے اتحاد سے حکومت میں ہے، وہیں متحدہ اپوزیشن بظاہر نمبر گیم میں تحریک انصاف کی حکومت کے لیئے خطرے کی گھنٹی بجانے کی پوزیشن میں ہے جس کے لیئے اسے تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکین کی حمایت کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو جہاں چھے ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے وہیں اپوزیشن کی جانب سے مسلسل پی ٹی آئی حکومت کو گرانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس سے متعلق کہ چکے ہیں کہ اگر زرداری صاحب اجازت دیں تو ایک ہفتے میں تحریک انصاف کی حکومت گرا سکتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ بیشتر مواقع پر یہ کہ چکے ہیں کہ قومی اسمبلی کی نمبر گیم کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت گرانا کوئی مشکل کام نہیں جبکہ لیگی رہنما احسن اقبال کا بیان ہے کہ حکومت گرانا چاہیں تو گرا سکتے ہیں مگر فلوقت ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہتے۔اس کے علاوہ بیشتر اپوزیشن کے اراکین کے بیانات موجود ہیں جہاں وہ پی ٹی آئی حکومت کو گرانے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔

حقائق پر مبنی بات کی جائے تومسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت گرانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں، حکومت گرانے کی صورت میں ملک میں ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جو شاید ان سب کے ہاتھ سے باہر نکل جائیں گے۔اگر متحدہ اپوزیشن تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو گرا دیتی ہے،تو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے لیئے مزید برے وقت کا آغاز وہیں سے ہوجائے گا۔اس کی بنیادی وجوہات میں سے اول تو یہ ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے متعلق مک مکا کی باتوں کو تقویت ملے گی اور ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے نظریے سے ان کے کارکنان کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔جبکہ تحریک انصاف کا بیانیہ مزید مضبوط ہوکر لوگوں کے دلوں میں تیر ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے لیئے وفاق میں مل کر حکومت کرنا دونوں جماعتوں کے لیئے سیاسی موت کا باعث بن سکتی ہے۔ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے بیچ وزارت عظمٰی، صدارت، اسپیکر قومی اسمبلی کے منصب سمیت کابینہ کے معاملات ہی دونوں جماعتوں کو لے ڈوبنے کا سبب بنے گی۔کیونکہ ذاتی مفاد کی خاطر الحاق کرنے والی جماعتیں جب ایک ساتھ حکومت سنبھالیں گی تو مفادات کا ٹکراؤ حکومت کو چلنے نہیں دے گا۔کیا ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری ہوں؟ یا پھر وزیر اعظم بلاول بھٹو زرداری اور صدر شہباز شریف ہوں؟ ہر گز نہیں۔ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک ساتھ حکومت میں ہونے سے دونوں جماعتوں کے اندر بغاوت خدشہ ہے۔ حال ہی میں بلاول بھٹو زرداری کی کوٹ لکھ پت جیل میں نواز شریف سے ملاقات پر پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما اعتزاز احسن نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ مشکل میں ہو تو پاؤں پکڑتی ہے جبکہ حکومت میں ہو تو گلا۔

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت کی صورت میں تحریک انصاف کا اپوزیشن میں بہت بڑا اور اہم کردار ہوگا۔تاریخ بتاتی ہے کہ تحریک انصاف اپوزیشن میں بھرپور کردار ادا کرتی ہے اور عمران خان نے تو خود دو دہائیوں سے زیادہ وقت اپوزیشن میں گزارا ہے۔اس صورت میں تحریک انصاف کو عوام کی بھرپور ہمایت حاصل ہوجائے گی۔ ایوان سے لیکر عوام کی عدالت میں تحریک انصاف کی قیادت میں اپوزیشن کا پلڑہ بھاری ہوگا جس کی وجہ سے پہلے سے ہی اپنی مفادات کے باچاؤ میں گھری ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومت بے بس ہوجائے گی، ایوان کی کارروائی اور قانون سازی مکمل طور پر عمل میں نہیں آسکے گی اور وہیں سے ان کی حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوجائے گا۔

ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے مل کر حکومت نہ بنانے کی یہ وجہ بھی ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی باربلا شک و شبہ سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے جس کا عملی مظاہرہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران لیئے گئے اقدامات سے واضح نظر آتا ہے جس سے اپوزیشن بھی اچھی طرح واقف ہے۔بہت سارے ایسے ملکی مسائل ہیں جن پر قابو پانے میں تحریک انصاف کی حکومت مشکلات سے دوچار ہے مگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں سیاسی و عسکری حکام خارجہ امور سمیت مختلف معاملات پر ایک ساتھ نظر آتے ہیں جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس اقتدار نہ ہونے کے باوجود، پاکستان کی مضبوط اور مستحکم جمہوری حکومت ہے۔جبکہ تاریخ کے حوالے سے اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے تعلقات ہمیشہ تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

ان وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی پچھلے چھے ماہ سے زائد کے عرصے کے دوران حکومت گرانے کے صرف بیانات دے کر کام چلا رہی ہے۔حکومت کے خلاف اپوزیشن متحد ضرور ہے مگر یہی متحدہ اپوزیشن کبھی تحریک انصاف کی حکومت گرانے کی غلطی نہیں کرنا چاہے گی۔ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے برسوں اس ملک پر حکمرانی کرنے، ملک کو کرپشن اور معاشی تنگی میں دھکیلنے کے بعد عوام حقائق سے اچھی طرح واقف نظر آتی ہے اور اگر تو متحدہ اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت گرا کر نگران سیٹ اپ لا کر نئے عام انتخابات کی جانب جاتی ہے تو عین ممکن ہے کہ تحریک انصاف پہلے سے زیادہ تعداد میں عوامی ہمایت کے ذریعے اقتدار میں آجائے گی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی چاہتے ہوئے بھی کسی قسم کی ایسی بچکانہ حرکت سے گریز کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here