وزارت خزانہ سے ہٹانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کا اسد عمر کو اہم ترین عہدہ دینے کا فیصلہ، ایسی پیشکش کر دی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

0
20

وزارت خزانہ سے ہٹانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو اہم ترین عہدہ دینے کی پیشکش کی ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے درمیان واٹس ایپ پر بات چیت ہوئی ہے، استعفیٰ منظور ہونے سے پہلے وزیراعظم اور عمران خان کے درمیان رابطہ ہوا، اس موقع پر وزیراعظم نے اسد عمر کو اپنی مرضی کی کوئی اور وزارت لینے کی پیشکش کردی مگر اسد عمر نے وزارت لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی کچھ عرصہ کوئی وزارت نہیں لینا چاہتا۔

واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے اسد عمر کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے، وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پر صدر مملکت عارف علوی نے وزیر خزانہ

اسد عمر کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ عبدالحفیظ شیخ کی بطور مشیر خزانہ تقرری کا نوٹیفیکیشن بھی ہو گیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے باضابطہ طورپر وزارت چھوڑ نے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ نئے وزیر خزانہ سے کوئی اْمید نہ رکھے کہ تین مہینے میں بہتری ہوگی، آئی ایم ایف میں جارہے ہیں، آئندہ بجٹ پر آئی ایم ایف پروگرام کا اثر پڑیگا، بجٹ مشکل ہوگا،نئے وزیر خزانہ ایک مشکل معیشت سنبھالیں گے ،بہتری کی طرف جارہے ہیں صرف تھوڑا صبر کر نے کی ضرور ت ہے ، اگر مشکل فیصلے نہ کئے گئے تو دوبارہ کھائی میں گر سکتے ہیں ، معیشت کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہو گی، تحریک انصاف کو خیر باد نہیں کہہ رہا،عمران خان نیا پاکستان بنائے گا، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیاں ہو جائیں گی،نئے پاکستان کیلئے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھی ، سازشوں جیسے معاملات میں نہیں پڑتا۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آپ سب کو میرا فیصلہ تو معلوم ہو گیاہے،وضاحت کر دوں اس لئے آیا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں رد و بدل کر رہے ہیں،

گزشتہ رات بھی وزیر اعظم سے بات ہوئی اور پھر صبح بھی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہاہے کہ آپ وزارت خزانہ کی جگہ وزارت توانائی کا قلمدان لے دیں جس پر میں نے وزیر اعظم کو بتایاکہ کابینہ کا حصہ نہیں رہوں گاتاہم کابینہ سے الگ ہونے کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں عمران خان کے ساتھ نہیں، میں ان کے نیا پاکستان کے وژن کو سپورٹ کرنے میں ہمیشہ ساتھ ہوں۔انہوں نے کہاکہ سات پہلے 18اپریل2012میں تحریک انصاف کا حصہ بنا اور تحریک انصاف کے ساتھ 7 سال کا سفر بہترین رہا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ آپ ملک کی بہتری کیلئے ہمارے ساتھ آئیں تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here