وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا معمولی عمل ملکی سیاست میں تہلکا مچا گیا

0
38

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وسیم اکرم پلس، یعنی وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدارگزشتہ روز ایک انتہائی سنگین غلطی کر بیٹھے۔شاید عثمان بزدار کے علم میں بھی نہ تھا کہ ان کا یہ عمل ایک ایسی غلطی کی شکل اختیار کر جائے گا، جس کے آگے ملک میں جاری اشرافیہ کا احتساب، ملکی معیشت، کرپشن، دہشتگردی جیسے مسائل بھی چھوٹے پڑ جائیں گے۔

جب تک عثمان بزدار کو یہ علم ہوا تھا کہ ان سے ایسی ایک خطرناک غلطی سرزد ہوگئی ہے، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ غلطی یہ تھی، کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ملتان میں ہونے والی پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں ایک موقع پر آئی جی پنجاب امجدجاوید سلیمی کی جانب سے ہاتھ ملانے کے لیئے جب ہاتھ آگے بڑھایا گیا، تو بے دھیانی میں عثمان بزدار ہاتھ ملانا بھول گئے اور چل دیئے۔

گزشتہ روز یہ واقعہ پیش آنے کے بعد تو جیسے پاکستانی میڈیا کے حلقوں میں ایک تہلکا سا مچ گیا۔ایک عام شخص جو شاید ملکی حالات سے با خبر نہ رہتا ہو اور جب اس نے سوچا ہو کہ کیوں نہ آج تھوڑا ملک کا احوال دیکھنے کے لیئے ٹی وی لگایا جائے، اس نے یہ تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ ہر ٹی وی چینل کے خبرنامے میں، ٹکرز پر اور ٹاک شوز میں جو سب سے اہم اور سنگین اس وقت ملک کا مسئلہ زیر بحث ہے، وہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا آئی جی پنجا ب امجد جاوید سلیمی سے ہاتھ نہ ملانا ہے۔

سوشل میڈیا تو ایک آزاد پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ اپنی مرضی سے اپنی خواہشات کے مطابق کچھ بھی شیئر کر لیتے ہیں نہ ہی سوشل میڈیا کا کردار اخبار اور براڈکاسٹ میڈیا والا ہے اسی لیئے سوشل پر تنقید کرنا جائز نہیں۔ مگر اس واقعے کو جس طرح ٹی وی چینلزنے کیش کیا،اس کا ایک پہلو اجاگر کر کے وزیر اعلی پنجاب کی کردار کشی کی گئی اور سب سے اہم بات کے نان اشو کو اشو بنا کر پیش کیا گیا، میڈیا کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ پورا دن ٹی وی چینلز پر وزیر اعلی پنجاب کی اسی ہاتھ نہ ملانے والی تین سے چار سیکنڈز کی ویڈیو کو بار بار چلا کر دکھایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ وزیر اعلی پنجاب شاید اتنے بے وقوف اور نادان ہیں جن کو پتا ہی نہیں تھا کہ آئی پنجاب سے ہاتھ ملانا ہے اورعثمان بزدار ہاتھ لائے بغیر ہی بس چل دیئے۔

حقیقت اس کے بر عکس نکلی جب اسی تین سے چار سیکنڈز کی کلپ کو مزید ایک سے دو سیکنڈز آگے چلا کر دیکھا گیا جو کہ کسی بھی ٹی وی چینل کو دکھانے کی توفیق نہ ہوئی۔ظاہر ہے! اگر پوری کلپ چلا دیتے تو تنقید کرنے کا، مزاق اڑانے کا،نان اشو کو اشو بنانے کا اور عوام کو گمراہ کرنے کا موقع کیسے ملتا۔ سوشل میڈیا پر وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان شہباز گل کی جانب سے شیئر کی گئی پوری کلپ میں یہ دیکھا گیا کہ بے دھیانی میں عثمان بزدار ہاتھ ملائے بغیر جب واپس مڑے، اس کے اگلے لمحے ہی ان کو احساس ہوا اور پاس آتے آئی جی پنجاب کی طرف مڑ کر انہوں نے خوش اخلاقی سے ہاتھ ملا لیا۔ بس، اتنی سی بات تھی، جس کا بتنگڑ بنا کر پاکستانی میڈیاپورا دن عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا اور یہ احساس دلاتا رہا کہ وزیر اعلی پنجاب اس عہدے کے اہل نہیں ہیں جن کو قواعد اور اصولوں کا علم ہی نہیں۔

جس طرح سے اینکرز اور تجزیہ نگاروں نے پورے پورے اس موضوع پر ٹاک شوز کر ڈالے، جو کہ زیر بحث موضوع ہی نہیں تھا، یہ تاثر دیتا ہے کہ ایک خاص پراپیگینڈا اور ڈزائن کے تحت وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف پہلے سے چلتی آرہی مہم کا یہ حصہ ہے۔

جہاں ملک میں اس وقت بیشتر اتنے بڑے اور اہم اشوز ہیں جن کا براہراست تعلق عوام سے ہے ان پر میڈیا جب آنکھ بند کر کے ایسے موضوعات پر بحث کر کے اپنا اور عوام کا وقت کریں گے تو میڈیا کے کردار پر سوال بھی اٹھیں گے۔میڈیا کو چاہیئے کہ اپنے گرہبان میں جھانکے۔ جو اس کا اصل کردار ہے اس پر عمل پیرا ہو۔میڈیا کی بے لگامی عوامی مفاد میں اچھی لگتی ہے، عوام کو گمراہ کرنے میں نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here