پاکستان انڈیا کی نظر میں تجارت کے لیے ’پسندیدہ ترین‘ نہیں رہا، مگر اس سے نقصان کس کا ہو گا؟

0
26

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد انڈیا پاکستان پر معاشی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے نریندر مودی نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے قوانین کے تحت 1996 میں پاکستان کو دیا گیا ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ (ایم ایف این) یعنی تجارت کے لیے سب سے پسندیدہ ملک کا رتبہ واپس لے لیا ہے۔

انڈیا کے وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے سنیچر کو ٹویٹ کی کہ اس فیصلے کے بعد ’فوری طور پر پاکستان سے انڈیا برآمد ہونے والی تمام اشیا پر کسٹم ڈیوٹی 200 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔‘

ڈبلیو ٹی او کے معاہدے کے تحت رکن ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کسٹم ڈیوٹی اور دیگر لیویز کے معاملات میں دوسرے ممالک سے غیر امتیازی سلوک رکھیں گے۔

تاہم ایک سرکاری اہلکار نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 200 فیصد درآمدی ڈیوٹی لگانے کا مطلب پاکستان سے درآمدات پر عملی طور پر پابندی لگانا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی تجارت کا حجم 2.4 ارب ڈالر ہے۔ 2017-18 میں انڈیا نے پاکستان سے 48 کروڑ 88 لاکھ ڈالر کی درآمدات اور دو ارب ڈالر کی برآمدات کی تھیں۔

پاکستان سے انڈیا جانے والی اشیا میں زیادہ حصہ تازہ پھلوں، سیمنٹ، پیٹرول کی مصنوعات، معدنیات اور چمڑے کا ہے۔

انڈیا پاکستان تجارت
Image captionانڈیا نے پاکستان سے درآمد ہونے والی اشیا پر بھی 200 فیصد امپورٹ ڈیوٹی لگا دی ہے

انڈیا میں پاکستان سے سب سے زیادہ درآمد ہونے والی چیزیں تازہ پھل اور سیمنٹ ہیں، جن پر موجودہ کسٹم ڈیوٹی بالترتیب 30-50 فیصد اور 7.5 فیصد ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیرف بڑھانے سے غیر قانونی تجارت بھی بڑھ سکتی ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات ڈاکٹر بسوا جت دھار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک اشارہ ہے، لیکن ایک سخت اشارہ۔ اس سے پاکستان کی معیشت کو واقعی تقصان پہنچ سکتا ہے اور غیر محفوظ سرحد کی وجہ سے یہاں غیر قانونی تجارت بھی بڑھ سکتی ہے۔‘

انڈیا پاکستان کو کپاس، نامیاتی کیمیکل اور پلاسٹک درآمد کرتا ہے۔

گیٹ وے ہاؤس سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات امت بھنداری کہتے ہیں کہ اگر عمران خان بھی بدلے میں انڈیا کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی لگاتے ہیں تو اس سے وہ اپنی ہی معیشت کو نقصان پہنچائیں گے۔

انڈیا پاکستان تجارت
Image caption2017 میں انڈیا نے پاکستان سے 48 کروڑ 88 لاکھ ڈالر کی درآمدات کی اور دو ارب کی برآمدات کی

ان کا کہنا تھا: ’اگر پاکستان انڈیا سے کاٹن فائبر اور گرے فیبرک کی درآمدات پر کچھ کرے گا تو اس سے وہ اپنی برآمدات کی صنعت کو نقصان پہنچائے گا کیونکہ کاٹن کی ٹیکسٹائل ان کی اہم برآمدات میں سے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ممکن ہے کہ پاکستان کو برآمد ہونے والی کپاس کو محدود کرنے سے انڈیا پاکستان کی کاٹن ٹیکسٹائل کی برآمدات میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان پہلے سے ہی ادائیگیوں کا توازن نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس سے ان کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔‘

انڈیا کی فنانس کمیشن کے ممبر سودیپتو منڈل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت پر معمولی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نہ سوچیں کہ ان اقدامات کا تعلق معیشت سے ہے۔ ان کا زیادہ تعلق سرحد کی دوسری جانب پیغام پہنچانے سے ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان تجارت بہت کم ہے۔ پاکستان سے درآمدات تین فیصد سے بھی کم ہیں اور درآمدات 0.5 فیصد کے قریب ہے۔ یہ اقدامات صرف اثر ڈالنے کے لیے نہیں ہیں۔

سودیپتو منڈل کا کہنا تھا کہ ’ایم ایف این درجے سے ہٹانے سے غیر قانونی تجارت پر بہت معمولی اثر پڑے گا۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ انڈیا جن ممالک کے ساتھ پاکستان بڑے پیمانے پر تجارت کرتا ہے ان کو کیسے استعمال کرتا ہے۔‘

پاکستان، انڈیا تجارت

ادھر پاکستانی ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان سے تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لینے سے کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ ایک علامتی حیثیت رکھتا ہے۔

ایس اکبر زیدی نے بی بی سی اردو کے عماد خالق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی جانب سے آج تک بھارت کو یہ درجہ نہیں دیا گیا۔ مگر انڈیا کی جانب سے جو تجارتی ٹیرف بڑھایا گیا ہے اس سےدونوں ممالک میں براہ راست تجارت ختم ہو جائے گی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں پہلے بھی زیادہ تر تجارت تیسرے فریق یعنی دبئ کے ذریعے ہوتی ہے اور انڈیا کی طرف سے تجارتی ٹیرف میں حالیہ اضافہ اس کو مزید تقویت دے گا۔

ماہرِ معاشیات قیصر بنگالی بھی اس خیال کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں تجارتی حجم بہت زیادہ نہیں ہے جس کے پاکستان پر خاطرخواہ اثرات مرتب ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انڈیا سے تجارتی برآمد کم اور درآمد زیادہ ہے۔ تجارت میں تعطل سے عام آدمی کو روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مشکل ہو سکتی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب انڈیا نے پاکستان کو یہ درجہ نہیں دیا تھا تب بھی اس سے تجارت پر خاص فرق نہیں پڑا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here