پی اے سی کی اتنی باز گشت کیوں؟

0
42

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی گزشتہ کچھ عرصے سے ایوان اور عوام میں بہت باز گشت ہے۔آئے روز حکمران اور اپوزیشن پی اے سی کو لیکر ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری میں مصروف ہیں۔

احتساب مہذب معاشرے کا ایک اہم ستون ہے۔اسی لیئے کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لیئے یہ ضروری ہے کہ احتساب اور شفافیت کا ایک موئثر نظام موجود ہو۔پی اے سی قومی اسمبلی کا قانونی اور آئینی جزو ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 171کے مطابق آڈیٹر جنرل کی فیڈریشن سے متعلق رپورٹ صدر ملکت کو جمع کروائی جائے گی جو اس کو مجلس شوریٰ، یعنی پارلیمینٹ میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سامنے پیش کرنے کو یقینی بنائیں گے۔جب کہ صوبائی سطح پر یہ ذمہ داری گورنر کے پاس ہے۔

پی اے سی پارلیمانی ڈومین میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔جس کا مقصد آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹس کی روشنی میں منسٹریوں، ڈویژنوں، کارپوریشنز،انڈیپنڈینٹ اور سیمی انڈیپنڈینٹ اداروں میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔پی اے سی منسٹریوں کے اخراجات،انتظامی معاملات، مجوزہ قانون سازی، عوامی درخواستوں اور پالیسیوں کی جانچ پڑتال کا اختیار رکھتی ہے۔جس کے بعد پی اے سی اپنے حتمی نتائج اور تجاویز کی رپورٹ متعلقہ منسٹری کو بھجوا کر جواب طلب کر نے کا اختیاربھی رکھتی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پی اے سی کے سربراہ یعنی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو لے کر سرد جنگ جاری ہے۔پی ٹی آئی کے حکومت سنبھالنے کے بعدپی اے سی کی چیئرمین شپ کو لے کر تنازعہ تب اٹھا جب پی ٹی آئی نے پرانی پارلیمانی روایت کو رد کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمین شپ دینے سے انکار کردیا تھا۔

اپوزیشن کا موئقف برقرار رہا کہ پچھلی دس سالہ جمہوری روایت کو دیکھتے ہوئے پی اے سی کی چیئرمین شپ قائد حزب اختلاف،یعنی شہباز شریف کو ہی سونپی جائے۔جبکہ حکومت کا موئقف یہ سامنے آیا کہ چونکہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف مبینہ طور پر آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملوس ہونے کی وجہ سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، تو ایک متنازعہ شخص جس پر کرپشن کے الزامات ہوں اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہو اسے کیسے پی اے سی کی چیئرمین شپ دی جا سکتی ہے۔یہ بلکل دودھ کی رکھوالی بلی سے کرانے کے مترادف ہے۔حکومت نے اپوزیشن کو یہ آپشن دی کہ شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف کے علاوہ کوئی بھی ان کو پی اے سی کا چیئرمین قبول ہو گا۔

حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک برقرار رہا جس کے نتیجے میں پارلیمانی کارروائی متاثر ہوتی رہی اور کسی قسم کی قانون سازی عمل میں نہ آسکی۔

یہ معاملات کے پیش نظر حکومت نے شدید تحفظات کے باوجود، جمہوری روایات کو دیکھتے ہوئے اور پارلیمان کو چلانے کے لیئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ہی پی اے سی کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا۔حیران کن طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اور سندھ میں پی پی پی نے پی اے سی کی چیئرمین شپ اپنے پاس ہی رکھی ہوئی ہے۔

معاملہ یہاں تھم نہ سکا۔حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان پی اے سی سے متعلق لفظی جنگ شدت اختیار کرتی چلی گئی۔حکومتی اراکین اس فیصلے سے بلکل بھی مطمئن نہیں دکھائی دیئے جس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کھل کر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔فواد چودھری کا یہ ماننا ہے کہ اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی سبوتاژ کر کے، حکومت کو بلیک میل کر کے پی اے سی کی چیئرمین شپ لی اور یہ حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں بیٹھا شخص پی اے سی کا چیئرمین بنے۔

شیخ رشید نے شروع سے ہی شہباز شریف کے خلاف سخت رویہ اپنائے رکھا۔ شیخ رشید کا یہ کہنا ہے کہ شہباز شریف ان کو پی اے سی کے چیئرمین کے طور پر بلکل پسند نہیں ہیں۔شہباز شریف کو ہٹانے کے لیئے اگر قانونی چارہ جوئی کرنا پڑی تو کریں گے۔اس کے علاوہ گزشتہ دنوں شیخ رشید نے وزیر اعظم عمران خان سے خصوصی ملاقات میں درخواست کی کہ ان کو پی اے سی کا رکن بنایا جائے تاکہ پچھلے دور حکومت میں شہباز شریف کے بنائے گئے منصوبوں کا آڈٹ وہ کریں۔جبکہ قومی اسمبلی کے ا سپیکر اسد قیصر سے ملاقات میں شیخ رشید کی یہی درخواست کو رد کردیا گیا جب شیخ رشید کو بتایا گیا کہ وفاقی وزیر پی اے سی کا رکن منتخب نہیں ہوسکتا۔شیخ رشید نے اسد قیصر کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسپیکر کے اختیارات پر سوال کھڑے کیئے۔بعد ازاں شیخ رشید نے ہمت نہیں ہاری اور وقت فوقتا ان کی اسی سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتیں جاری ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن بھی تنقید کے نشتر برسانے میں پیش پیش ہے۔شہباز شریف نے شیخ رشید کی پی اے سی رکن بننے کی خواہش پر کسی قسم کا رد عمل نہ دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنااللہ کو پی اے سی کا رکن بنانے کی کوششیں تیز کردی۔اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا حال ہی میں بیان سامنے آیا کہ اگر شہباز شریف کو پی اے سی کی شیئرمین شپ سے ہٹایا گیا تو حالات خراب ہوجائیں گے۔

فلوقت حکومتی بینچز اس بات پر سوچ بچار میں مصروف نظر آرہے ہیں کہ سادہ اکثریت حاصل کر کے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے شہباز شریف کو ہٹا دیا جائے جبکہ اپوزیشن بھی اس صورت میں اپنا لاحہ عمل تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

جمہوری روایات اپنی جگہ پر ہیں،مگر جمہوری اصولوں پر چلنا بھی ایک جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کسی متنازعہ شخص کے ہاتھ میں ایسی کمیٹی کی سربراہی دینا قانونی، آئینی اور اخلاقی لہاذ سے درست ہے جس نے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لگائے منصوبوں کی جانچ پڑتال کرنی ہو یا ایوان میں موجود اراکین صرف اپنی سیاسی رنجشوں کی بناء پر ایوان کو اور عوام کے پیسوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے والی کمیٹی کو متنازعہ کر رہے ہیں۔

فیصلہ عوام کا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here