سائنس و ٹیکنالوجی میں پاکستانیوں کی کامیابیاں

0
13
گذشتہ71برس میں علم و ادب، فنون ِ لطیفہ ،طب، انجینئرنگ اور کمپیوٹر و انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پاکستان نے مجموعی طور پر کافی ترقی کی ہے۔ سینکڑوں نامور پاکستانی سپوت اس وقت دیار ِ غیر میں اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ ہزاروں با صلاحیت افراد نے ملک میں رہتے ہوئے محدود وسائل اور حکومتی سر پرستی نہ ہونے کے باوجود ایسے کئی کارہائے نمایاں سر انجام دیئے جو نہ صرف ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے کا باعث بنے بلکہ ان کے ذریعے پاکستان کا ایک چہرہ سامنے آیا ہے۔ آئیے ان71برس کے دوران پاکستانیوں کی جانب سے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کی گئیں تحقیقات اورایجادات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
1963ء:دماغی رسولی کا علاج (طب)
پاکستانی ڈاکٹر ایوب خان امیہ ایک خوش مزاج نیورو سرجن اور اندرونی دماغی چوٹوں کے ماہر تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کرنے کے بعد نف فیلڈ کالج آف سرجیکل سائنسز لندن سے نیورو سرجری کی تربیت حاصل کی۔دماغی امراض اور سرطان پر اپنی تحقیق کے دوران1963ء میں انھوں نے دماغی رسولی کے خاتمے کے لیے ایک آلہ ایجاد کیا، جسے ’امیہ ریزروائر‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی بدولت برین ٹیومرکا علاج بذریعہ کیموتھراپی ممکن ہوا۔
1969ء:ہگز بو سون (طبیعات)
ڈاکٹر عبد السلام پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان تھے۔ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والے پاکستان کے پہلے سائنسدان ہیں، جن کا یہ اعزاز کئی عشروں بعد بھی برقرار ہے۔1969ء میں ڈاکٹر عبد السلام کو اپنے ساتھی محقق اسٹیون وین برگ کے ساتھ کمزور برقی قوتوں پر ان کے پیش کردہ ماڈل پر طبیعات میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ دراصل کمزور برقیاتی قوتوں کا ماڈل یہ پیشن گوئی کرتا ہے کہ دو انتہائی توانائی کے حامل ذرات جو آپس میں ٹکرا رہے ہوں، ان کی پرو بیبلٹی یا امکانات کی شرح انفرادی ذرے کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک نیا ماڈل پیش کیا گیا، جس میں صرف ایک یا ایک ہی جیسے کئی ذرات تھے جنھیں ’ہگز بوسون‘ کا نام دیا گیا۔
1971ء:ایٹمی پروگرام (نیوکلیئر فزکس)
1971ء کی جنگ کے بعد ملکی سلامتی کو لا حق خطرات کو بھانپتے ہوئے پاکستان نے ایٹمی پروگرام کو مؤثر بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کیں۔1975ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا۔ انھوں نے ڈاکٹر خلیل قریشی کے ساتھ گیس سینٹری فیوجز پر تحقیق شروع کی۔کچھ عرصے بعد انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کے قیام کے بعد اس کے اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدان علیحدہ علیحدہ تحقیقات کرتے رہے۔1981ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ای آر ایل کا ڈائریکٹر بنا کر اس کا نام اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا ،جہاں وہ اپنی ٹیم کے ساتھ شب و روز کی ان تھک محنت کےبعد 1984ء میں پہلی اٹامک ڈیوائس بنانے میں کامیاب ہوئے۔ تحقیق اور ایجادات کے تسلسل کے باعث اِس وقت پاک افواج کے پاس ایٹمی و نیوکلیئر ہتھیاروں کے علاوہ میزائل، ڈرون،ٹینک سسٹم موجود ہیں۔
1990ء:بدر سیٹلائٹ پروگرام (اسپیس سائنسز)
پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ پروگرام کو بدر کا نام دیا گیا تھا، جس کے تحت1990ء سے2000ء تک سپارکو نے زمین کے نزدیکی مدار ( لو ارتھ آربٹ) میں کئی سیٹلائٹ بھیجے ،جن کا بنیادی مقصد مستقبل میں بھیجے جانے والے جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کے لیے اہم تجربات کرنا تھا۔اس سلسلے کا پہلا سیٹلائٹ جولائی 1990ء میں ہمسایہ ملک چین کے لانچنگ سینٹر سے بھیجا گیا۔ یہ مشن دسمبر 1991ء میں تکمیل کو پہنچا۔ اس کے بعد’ بدر اے‘ اور’ بدر بی‘ سیٹلائٹس بھیجے گئے، جن کی میعاد 2012ء میں فنکشنل لائف پوری ہونے کے ساتھ ختم ہوگئی تھی۔ ان کی جگہ پاکستان کے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ نے لے لی ہے۔
2016ء:ہیومن برین چپ (طب ، مصنوعی ذہانت)
ڈاکٹر نوید سید نے 2016ء میں کینیڈین اور جرمن ٹیموں کے ساتھ انسانی دماغ کے میکینزم ،دماغی خلیات ’نیورانز‘ کی مسلسل تولید اور اُن کے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے براہ راست تعلق پر تحقیق کرتے ہوئے انسانی دماغی خلیات کو سیلیکون چِپ پر اس طرح نمو (گرو ) کیا ہے کہ اس چپ کے نیورانز دماغی خلیات سے اور دماغی خلیات ان نیورانز سے بآسانی رابطہ کر سکتے ہیں۔اس بایونک چِپ کے ذریعے انسانی افعال کو کسی حد تک قابو کرنا ممکن ہو ا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس میں بھی اس کا استعمال بڑھا ہے۔
2018ء:کینسر کا علاج (طب)
حال ہی میں پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر وقاص عثمان نے کینسر کے علاج کے لیے ایک خاص طریقۂ کار دریافت کیا ہے، جس کے ذریعے کئی اقسام کے کینسر کے خلیات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ سٹی یونیورسٹی ہانگ کانگ میں پیش کیے گئے اپنے تحقیقی مقالے میں ڈاکٹر وقاص نے یہ تصور پیش کیا کہ جسم کے سرخ خلیات کے اضافی خلیاتی ویسیکل کے ذریعے جسم میں رائبو نیوکلیک ایسڈ کی زود اثر ادویات داخل کرنے سے کینسر کے کئی اقسام کے خلیات کو مارا جا سکتا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here