Some time There are no answers

0
0


سر قاسم علی شاہ اپنی ہر گفتگو میں ایک خیال،سوال کی صورت ذہنوں میں ڈالتے ہیں جو انسان میں بازگشت کرتا رہتا ہے۔۔۔ جب میں نے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کے جوابات نہ ملنے پر ایک ویڈیو لیکچر تلاش کیا تواِس علم و فن اور دانش سے بھر پور گفتگو میں آپ بتاتے ہیں کہ ہر کسی کا اپنا ایک سوال ہے اور ایک واقعہ اپنے کسی بزرگ کی زبانی سُنانے لگے۔

ایک دفعہ اُن کے بزرگ کچھ سیکھنا چاہتے تھے اور اُنہیں کسی ایسے بندے کی تلاش تھی جو اُن کے مطلوبہ سوالات کا علم رکھتا ہو لیکن کوئی بندہ نہ مِلا۔ ایک عرصہ تلاش کرنے کے بعد اُنہیں کسی سے معلوم ہوا کہ ایک علاقے میں ایسا شخص موجود ہے جو اس کا علم رکھتا ہے اور جوابات دے سکتا ہے۔ مختلف لوگوں سے رابطہ کرنے پر اُنہیں معلوم ہوا کہ اُس بزرگ کے ہاں فون کا کنیکشن موجود نہیں۔ رابطے کا طریقہ کار یہ ہے کہ اُن کے قریب کسی گھر میں فون موجود ہے۔ وہاں فون کال کر کے اُنہوں نے اپنا پیغام بزرگ کو بھیجوایاکہ میں آپ سے ملنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ بزرگ نے جواب دیا کہ اُسے کہہ دو کل صبح کا ناشتہ میرے ساتھ کرے اور یہ کہ میں اُس کے شدید انتظار میں ہوں۔وہ بتانے لگے کہ میں اگلی صبح سفر کر کے اُس شہر کے پرانے سے بازار میں رہنے والے عمر رسیدہ بزرگ کے پاس پہنچا تو وہ اپنی ایک زندگی میں کئی زندگیوں کا سفر طے کیے اپنے چہرے پر کئی صدیوں کی مسافت کے نشانات لیے بیٹھے تھے۔ میرے سامنے ناشتہ رکھا اور بات چیت کرنے لگے۔ میرے سوالات کے جوابات دیے، جو میں سیکھنا چاہتا تھا وہ سکھایا اور کہنے لگے کہ بیٹا تم اب جاؤ۔۔۔ میں تعجب سے اُنہیں دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ شاید اِس سے زیادہ وقت دینا اُنہیں پسند نہیں۔ اور الوداعی کلمات ادا کر کے وہاں سے نکل آیا۔ جب لاہور واپس پہنچا تو مجھے ایک فون کال آئی اور وہ صاحب کہنے لگے کہ آپ صبح جن سے مل کر گئے ہیں وہ انتقال فرما گئے ہیں۔اور مَیں حیرت بالائے حیرت یہ سوچنے لگا کہ شاید وہ مجھے دو باتیں سکھانے کے ہی انتظار میں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ بتاتے ہیں کہ اسی طرح ہر انسان جو سیکھنا چاہتا ہے وہ بھی رزق (مال و دولت، دانہ پانی)کی طرح آپ کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے یا بعض اوقات آپ اُس تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہر کسی کو اپنے سوالات کے جوابات اِس لیے نہیں ملتے کیوں کہ وہ سچے نہیں ہوتے۔ جس کسی کو مِل جا ئے سمجھ جائیں کہ اُس کی تلاش سچی تھی۔ جب انسان کے اندر سچے سوال کی باز گشت ہو تو اُس کا جواب قدرت کی طرف سے مِلنا شروع ہو جاتا ہے۔

ہم میں سے شاید کبھی کسی نے اپنے آپ سے یہ نہیں کہا ہو گا کہ ہمیں جوابات اپنے خود کے سچے ہونے پر نہیں ملتے۔ اور ہم ہر وقت اپنے علاوہ سب کو موردِالزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔ سر قاسم علی شاہ کی باتیں بلاشبہ ایک قیمتی سرما یہ ہیں جو ہر لمحہ سکھانے کے نئے در وَا کیے ہوئے ہیں۔ لہذٰا اگر آپ کو بھی جوابات کی تلاش ہے تو سب سے پہلے اپنے سوالات اور خود کو سچا بنایئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here