پاکستان میں را کی دہشت گردی

0
44

ارتھ شاستر تقریباً تین سو سال قبل مسیح میں لکھی گئی کتاب ہے اسے موریہ خاندان کے وزیر سیاست کوٹلیہ عرف چانکیہ نے لکھا تھا جاسوسی کی یہ کتاب ہندو ذہنیت کا مکمل آئینہ ہے اس میں راجہ کو اپنی حکومت کو طول دینے کے لئے ہر ناجائز اور ظالمانہ فعل کو جائز قرار دیا گیا اور ہمسایہ ملکوں اور راجدھانیوں کو تباہ کرنے اور ان کے لئے امن و امان کے مسائل کھڑے کر کے انہیں کمزور کرنے اور اپنی حکومت اور ملک کے لئے فائدہ اٹھانے کے طریقے بتائے گئے تھے۔ ہندو ذہنیت ہمیشہ سے شاطر، چالباز اور تخریب کار رہی ہے صدیوں کے گزرنے نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا 1968 میں انہی اصولوں اور ضابطوں پر عمل کرنے کے لئے ارتھ شاستر کو چانکیہ سمیت پھر زندہ کر کے اسے ہندو ذہنیت نے را کا نام دیا۔ را کا بڑا مقصد بھی وہی ٹھہرا کہ ہمسایہ ممالک کو چین اور سکون سے نہ رہنے دیا جائے ان کے امن و امان کو تہہ و بالا کیا جاتا رہے ہوس ملک گیری میں انسانی جانوں سے کھیلا جاتا رہے اور انہیں امن اور سکون کو ترسا دیا جائے۔ را یہ کام چانکیہ جی کے متعدد چیلوں سے لیتی رہتی ہے وہ اپنے جاسوس بھی بھیجتی ہے اور ہمسایہ ممالک میں ضمیر فروشوں کو اچھے داموں خرید کر بھی یہ کام کرتی ہے۔ اپنے بے حساب بجٹ کی وجہ سے یہ کام اسکے لئے مشکل بھی نہیں ہوتا۔ را کے قیام کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا تھا لیکن اس نے اپنے مذہب اور تاریخ کی تعلیمات کے عین مطابق اپنے دیگر پڑوسیوں کو بھی مسلسل نقصان پہنچایا جس کی بڑی مثال سری لنکا ہے جہاں تامل ٹائیگرز کو بے تحاشا اسلحہ اور پیسہ بھی دیا گیا اور تربیت بھی اور تقریباً تیس سال تک اس مکروہ فعل کو جاری رکھا گیا۔ سب سے پہلے ادھر ہی خودکش حملوں کے ذریعے فساد پھیلایا گیا لیکن تاملوں کے دل میں بغاوت بنام ’’آزادی‘‘ کا جو بیج بویا گیا پربھاکرن کی موت کے بعد آزادی کی یہی خواہش تامل ناڈو میں بھارتی تاملوں کی خواہش بننے لگی ہے۔ سری لنکا میں تو جو کیا گیا وہ کیا گیا پاکستان کو اپنے قیام سے لیکر اب تک کسی موقع پر بھارت نے معاف نہ کیا اور را نے اپنی اس ’’ڈیوٹی‘‘ کو بڑی تندھی سے انجام دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندوں اور مکتی باہنی جیسی تنظیموں کے ذریعے اس نے جو انسانیت سوز مظالم کئے وہ تو تاریخ کا حصہ ہیں لیکن بنگلہ دیش بننے کے بعد اس نے بنگلہ دیش کو بھی سکون سے نہ رہنے دیا اور آسام اور بنگال میں آزادی کی تحریکوں میں اسے ملوث قرار دے کر اپنی تخریبی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان دہشت گردی کی جس حالیہ لہر سے گزرا ہے اور گزر رہا ہے اس سے را کو کسی طرح بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنا مکروہ کھیل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے سوات میں لوگوں کو دیکھ کر یہی خیال آتا رہا ہے کہ را نے کسطرح سالوں تک انکی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔ سوات میں طالبان کے نام پر غیر مسلم لاشوں کا ملنا ہی اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ لوگ نہ تو مقامی ہیں نہ کسی دوسرے مسلمان ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارتی ساختہ اسلحہ ان لوگوں کے عام استعمال میں رہا۔ را نے اپنے خزانوں کے منہ کھلے رکھے اور ایک رپورٹ کے مطابق سوات کے دہشت گردوں پر را نے تقریباً 650 ملین روپے خرچ کئے ورنہ اس قدر وافر اسلحہ، روپیہ اور دوسرے ذرائع یہ لوگ مقامی ذرائع میں کس طرح ممکن بناسکتے تھے۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ چندے سے ایسا کیا گیا تو کیا غریب عوام اتنا روپیہ جمع کر سکتے ہیں جس سے جدید اسلحہ خریدا جاسکے۔ جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی خریدی بھی جائے اور استعمال بھی کی جائے جبکہ سب ہی جانتے ہیں کہ ان تحریکوں کے لیڈران نہ تو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے نہ ہی اعلیٰ تربیت یافتہ پھر وہ کیسے ان ٹیکنیکل معاملات کو سنبھالے ہوئے تھے۔

بلوچستان میں تو را کی مداخلت خیر اب ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے جسے کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ براہمداغ سمیت بی ایل اے کی نام نہاد لیڈر شپ را کی مدد سے ہی لیڈر بنے ہیں۔ بالکل اسی طرح جسطرح طالبان میں عہدے تقسیم کئے گئے انہیں بڑے لیڈر بنا دیا گیا جبکہ وہ مکمل ان پڑھ اور دین سے بے خبر لوگ تھے۔ بیت اللہ محسود را کا ایک اور لاڈلا تھا جسے طلسماتی اور کرشماتی شخصیت بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ بلوچستان ہی کی بات کو اگر آگے بڑھایا جائے تو جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ را اس وقت دنیا کی ناکام ترین خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا دست راست بنا ہوا ہے تاکہ پاکستان کے عدم استحکام کی اپنی خواہش بھی پوری کر سکے اور سی آئی اے سے بلوچستان کی معدنی دولت میں اپنا حصہ بھی وصول کر سکے۔ سی آئی اے کو میں نے ناکام اسلئے کہا کہ اب تک کوئی قابل ذکر کامیابی اس کے حصے میں نہیں آسکی۔ ویتنام سے لیکر عراق اور افغانستان تک ہر میدان میں اسے ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا نہ تو اس کی اطلاعات درست نکلی اور نہ اندازے۔

را خود تو پاکستان کے خلاف ہے ہی سرگرم عمل اب تو اس نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی رام ﴿ریاست امانت ملیہ﴾ کو تربیت دینا شروع کی ہے تاکہ وہ پاکستان میں تخریبی کاروائیاں زیادہ مہارت سے کر سکے۔ افغانستان میں رام، سی آئی اے اور را مل کر منشیات سے اپنے فنڈز بناتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ تینوں ایجنسیاں جانتی ہیں کہ احمد ولی کرزئی منشیات کا کتنا بڑا اسمگلر ہے لیکن اسے حامد کرزئی کا بھائی ہونے کا فائدہ دیا جارہا ہے یہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت ہے۔

اگر اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ را کے پاکستان کے خلاف عزائم کیا ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے اس کا پہلا مقصد تو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے پیچھے رہے۔ دوسرا مقصد جسے را کبھی پورا نہ کر سکے گا﴿انشاﺀ اللہ﴾ وہ ہے پاکستان کے خدانخواستہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اسی مقصد کے لئے اس نے بلوچستان میں سی آئی اے کی مدد کا فیصلہ کیا جسکی نظر وہاں کے ان قیمتی معدنی ذخائر اور توانائی کے پوشیدہ ذرائع پر ہے جسے وہ برس ہا برس تک استعمال کر سکتا ہے۔ ایک اور بڑا مقصد را کی کاروائیوں کا یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر لیا جائے جو بھارت کا علاقے کی سپر پاور بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔1998 میں بھارت نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو بزعم خود اس کا خیال تھا کہ اب وہ پاکستان اور ارد گرد کے دوسرے ممالک کو ہضم کر جائے گا یا طفیلی ممالک بنا دے گا۔ لیکن جب جواب میں پاکستان نے دھماکے کئے تو اس کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا اور نہ صرف یہ کہ پاکستان ہندو جنونیت سے محفوظ ہوگیا بلکہ دوسرے ملک بھی اس کی دست برد سے بچ گئے۔

آجکل بھارت اور را ایک اور کام بڑی جانفشانی سے کر رہے ہیں اور وہ ہے ہمارے عسکری اداروں اور آئی ایس آئی کے خلاف زبردست پروپیگنڈا مہم یعنی دنیا میں ہونے والے ہر ناخوشگوار واقعے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ثابت کرنا اور یوں افواج پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنا اور ملک کے اندر اور باہر فوج کو بدنام کرنا۔ را نہ صرف یہ کہ مختلف علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے بلکہ دیگر مختلف واقعات میں بھی ملوث رہتا ہے۔ کبھی اپنے ملک میں کبھی دوسرے ملک میں جیسے ممبئی بھی را کا ہی رچایا ہوا ڈرامہ تھا اور اسی طرز پر ایک ڈرامہ اس نے لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کی صورت میں رچایا۔ مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر، میریٹ، پی سی پشاور اور ایسے دیگر واقعات میں را ملوث رہا۔ ڈیرہ بگٹی سے پکڑے جانے والے ایک دہشت گرد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں بھارتی سپورٹ حاصل ہے۔

خفیہ ایجنسیاں جب اپنے ملکی مفادات کا تحفظ کریں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن جب دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت کریں تو یقیناً دہشت گرد بن جاتی ہیں اور بجا طور پر تخریبی ایجنسیاں کہلانے کی مستحق ہو جاتی ہیں۔ را ایسی ہی ایک تخریبی ایجنسی ہے جو اپنے لیڈروں کی خواہشات اور تصورات کے عین مطابق کام کرتی ہے۔ جواہر لال نہرو کوٹلیہ چانکیہ کا بہت بڑا مداح تھا اور اسکے جانشینوں نے انہی ظالمانہ اصولوں کو بنیاد بنا کر را کی بنیاد رکھی اور اسے دوسروں کے لئے وبال جان بنا دیا۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس کی مکاریوں اور عیاریوں سے باخبر رہے تو ان کی کامیابی کے امکانات خود بخود ختم ہوتے جائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here